اربعین حسینیعراق

شہرِ مقدس کربلا میں زیارتِ اربعین حسینی کا پُرشکوہ انعقاد

شہرِ مقدس کربلا میں اربعینِ امام حسین علیہ السلام کے موقع پر شدید گرمی کے باوجود لاکھوں زائرین کی والہانہ شرکت نے ایک بار پھر اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام سے بے مثال عشق و عقیدت کا مظاہرہ پیش کیا۔

اس سلسلہ میں ہمارے ساتھی رپورٹر کی رپورٹ پر توجہ دیں۔

شدید گرمی کے باوجود لاکھوں عاشقانِ امام حسین علیہ السلام پیدل سفر طے کرکے زیارتِ اربعین میں شرکت کے لئے کربلائے معلیٰ پہنچے، جہاں انہوں نے حضرت سید الشہداء علیہ السلام سے اپنی غیر متزلزل محبت، وفاداری اور عقیدت کا اظہار کیا۔

عراقی حکام کی جانب سے زائرین کی حتمی تعداد کا اعلان جلد متوقع ہے۔

تقریباً 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے والے درجۂ حرارت نے بھی زائرین کے عزم و استقامت کو متزلزل نہیں کیا، بلکہ لاکھوں افراد تمام تر دشواریوں کے باوجود کربلائے معلیٰ پہنچ کر اربعین حسینی میں شریک ہوئے۔

شہرِ مقدس کربلا اس وقت عراق اور دنیا کے مختلف ممالک سے آنے والے لاکھوں زائرین سے بھرا ہوا ہے۔

عراق کی اعلیٰ سکیورٹی کمیٹی برائے اربعین کے مطابق زائرین کی تعداد اپنے عروج پر ہے، تاہم ان کی آمد و رفت نہایت منظم اور سہل انداز میں جاری ہے۔

ادھر عراق کے متعدد صوبوں میں زائرین کی واپسی کے انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں اور متعلقہ ادارے ہائی الرٹ پر ہیں، جبکہ ہزاروں زائرین زمینی سرحدی راستوں کے ذریعے اپنے اپنے ممالک کی جانب روانہ ہو رہے ہیں۔

اربعین کے عظیم اجتماع کے پیشِ نظر عراقی سکیورٹی فورسز نے غیر معمولی حفاظتی انتظامات کئے ہیں۔ زائرین کے راستوں، روضہ امام حسین علیہ السلام اور روضہ حضرت عباس علیہ السلام کی طرف جانے والے اہم مقامات پر متعدد چیک پوسٹس قائم کی گئی ہیں تاکہ زائرین کی سلامتی کو ہر صورت یقینی بنایا جا سکے۔

دوسری جانب خدمتِ زائرین کے لئے قائم مواکب شب و روز کھانا، ٹھنڈا پانی، مشروبات اور دیگر ضروری سہولیات فراہم کر رہے ہیں، جبکہ طبی امداد کے لیے ڈاکٹروں اور طبی عملے کی خصوصی ٹیمیں مختلف مقامات پر تعینات ہیں۔

زائرین کی خدمت اور مہمان نوازی عراق کی ایک قدیم، عظیم اور قابلِ فخر روایت ہے، جو آج بھی پورے جذبۂ اخلاص کے ساتھ برقرار ہے۔ عراقی عوام اپنی جان، مال، وقت اور توانائیاں راہِ امام حسین علیہ السلام میں وقف کرتے ہوئے زائرین کی خدمت کو اپنے لئے باعثِ سعادت سمجھتے ہیں۔ وہ نذورات پیش کرتے ہیں، شب و روز مواکب میں خدمات انجام دیتے ہیں اور زائرین کو رہائش، آرام اور دیگر سہولیات بلا معاوضہ فراہم کرتے ہیں۔

عراق کی مختلف مذہبی تنظیمیں، ہیئتیں اور عوامی ادارے راستوں میں بڑے بڑے خیمے نصب کرتے ہیں، جنہیں موکب یا مضیف کہا جاتا ہے۔ ان مواکب میں زائرین کو مکمل طور پر مفت کھانا، پانی، رہائش، طبی امداد اور آرام کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ ان مواکب کا انتظام عوامی تعاون اور رضاکارانہ خدمات کے ذریعے انجام دیا جاتا ہے۔

گزشتہ چند روز کے دوران مختلف علاقوں سے آنے والے مواکب اور عزاداری کے دستے حرمِ مطہر حضرت امام حسین علیہ السلام اور حرمِ مطہر حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام میں حاضری دے کر پرسہ داری اور عزاداری میں مصروف ہیں، جبکہ شہرِ کربلا مسلسل نوحہ و ماتم اور ذکرِ مصائبِ اہلِ بیت علیہم السلام سے گونج رہا ہے۔

زیارتِ اربعین کا یہ عظیم اجتماع روحانیت، ایثار، اخوت، نظم و ضبط اور امن کا بے مثال مظہر ہے، جہاں شدید گرمی بھی عشقِ حسین علیہ السلام کے سامنے بے بس دکھائی دیتی ہے۔

عوامی مواکب کی بے لوث خدمت، اہلِ عراق کی مثالی میزبانی اور مؤثر حفاظتی انتظامات نے زائرین کے لئے ایک پُرامن اور روح پرور ماحول فراہم کیا ہے، تاکہ دنیا کا یہ عظیم ترین روحانی اجتماع ایک بار پھر انسانیت کے سامنے حضرت امام حسین علیہ السلام کے ابدی پیغامِ حق، آزادی، ایثار اور ظلم کے خلاف استقامت کو اجاگر کر سکے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button