تاریخ اسلام

17 صفر الاحزان؛ یوم شہادت امام علی رضا علیہ السلام (روایت)

تاریخِ اہلِ بیت علیہم السلام کا ہر باب مظلومیت، صبر اور رضائے الٰہی کی ایک نئی تفسیر پیش کرتا ہے، لیکن امام علی بن موسیٰ الرضا علیہ السلام کی شہادت میں غربتِ وطن، فراقِ اہل و عیال اور زہرِ جفا کی ایسی دردناک داستان پنہاں ہے کہ دل بے اختیار اشکبار ہو جاتا ہے۔

مدینہ کی گلیاں آج بھی اس مسافرِ حق کو یاد کرتی ہوں گی جس نے اپنے جد حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ کے شہر سے اس سفر کا آغاز کیا، جس کی منزل بظاہر خراسان تھی، مگر حقیقت میں وہ سفر شہادت اور لقاءِ الٰہی کی جانب تھا۔ مدینہ کی فضائیں، مسجدِ نبویؐ، روضۂ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ اور اہلِ بیت علیہم السلام کے گھر اس جدائی کے خاموش گواہ تھے۔ یہ محض ایک شہر سے دوسرے شہر کی ہجرت نہ تھی، بلکہ امامت کے ایک مظلوم باب کا آغاز تھا۔

جب امام رضا علیہ السلام نے وطنِ عزیز کو الوداع کہا تو آپؑ جانتے تھے کہ یہ جدائی عارضی نہیں۔ وطن کی محبت، عزیزوں کی رفاقت اور اہلِ بیت علیہم السلام کی قربت سب کچھ پیچھے رہ گیا، لیکن رضائے خدا کے سامنے ہر دکھ ہیچ تھا۔ یہی مقامِ رضا تھا جو بطور اکمل و اتم آپ کی شخصیت میں عیاں تھا۔

خراسان کی سرزمین آپؑ کے قدوم سے شرف یاب ہوئی، مگر اسی سرزمین نے اس مظلوم امام کے جسدِ اطہر کو اپنی آغوش میں جگہ دی۔ مدینہ سے دور، اپنے اہل و عیال سے جدا اور اپنے فرزند حضرت امام محمد تقی الجواد علیہ السلام سے فراق کی حالت میں آپؑ نے زہرِ جفا کا جام نوش فرمایا۔ اسی غربتِ وطن نے آپؑ کو "غریب الغرباء” کے لقب سے ہمیشہ کے لئے یادگار بنا دیا۔

ایک روایت کے مطابق، 203 ہجری میں منگل کے روز مأمون عباسی نے امام رضا علیہ السلام کو زہر آلود انگور کھلا کر شہید کیا۔ اس وقت آپؑ کی عمر مبارک اکاون برس تھی۔
(بحار الانوار، جلد 49، صفحہ 223، مرحوم کفعمی)

زہر آلود انگور کے وہ چند دانے درحقیقت بنی عباس کی عداوت، اقتدار کی ہوس اور نورِ امامت کو خاموش کرنے کی ناکام کوشش کی علامت تھے۔ زہر نے جسمِ اطہر کو ضرور متاثر کیا، مگر وہ اس نور کو بجھا نہ سکا جو قیامت تک دلوں کو منور کرتا رہے گا۔

کتنا جانکاہ منظر ہوگا! جسمِ مبارک پر زہر کے اثرات نمایاں ہیں، مگر لبوں پر شکوہ نہیں؛ درد اپنی انتہا کو پہنچ چکا ہے، مگر زبان پر ذکرِ خدا جاری ہے؛ جسم کمزور ہو رہا ہے، مگر صبر، رضا اور توکل کی شان پہلے سے زیادہ درخشاں ہے۔ یہی اہلِ بیت علیہم السلام کی سیرت ہے کہ مصائب ان کے عزم کو متزلزل نہیں کرتے بلکہ ان کے مقامِ بندگی کو مزید آشکار کر دیتے ہیں۔

مأمون نے سمجھا تھا کہ وہ زہر کے ذریعہ امامؑ کا نام مٹا دے گا، لیکن تاریخ نے ثابت کر دیا کہ ظلم کی سلطنتیں مٹ جاتی ہیں، جبکہ اولیائے خدا کے نام رہتی دنیا تک زندہ رہتے ہیں۔ آج مأمون کا اقتدار تاریخ کی گرد میں گم ہو چکا ہے، لیکن امام رضا علیہ السلام کا روضۂ اقدس کروڑوں عاشقانِ اہلِ بیت علیہم السلام کے دلوں کا مرکز ہے، جہاں ہر لمحہ عقیدت کے چراغ روشن رہتے ہیں اور ہر زبان پر ایک ہی صدا جاری رہتی ہے:

اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا عَلِيَّ بْنَ مُوسَى الرِّضَا، يَا غَرِيبَ الْغُرَبَاءِ، يَا أَنِيسَ النُّفُوسِ.

مشہدِ مقدس کا سنہری گنبد آج بھی مظلومیت اور عظمت کی ایک لازوال علامت ہے۔ وہاں حاضر ہونے والا ہر زائر اپنے دل کا بوجھ آنسوؤں میں ڈھال دیتا ہے۔ کوئی شفا کا طالب ہے، کوئی رزق کا، کوئی سکونِ قلب کا، اور کوئی صرف اس تمنا کے ساتھ حاضر ہوتا ہے کہ امامِ رؤوف کی محبت اس کے دل سے کبھی جدا نہ ہو۔

اے امامِ رؤوف! آپؑ کی غربت ہمارا غم ہے، آپؑ کی مظلومیت ہماری آنکھوں کا اشک ہے، اور آپؑ کی محبت ہمارا سرمایۂ ایمان۔ ہم دعا گو ہیں کہ جس طرح دنیا میں آپؑ کی ولایت نے ہمارے دلوں کو زندگی بخشی، اسی طرح روزِ محشر بھی آپؑ کی شفاعت ہمیں رحمتِ الٰہی سے ہمکنار کرے۔

سلام ہو اس امام پر جس نے جلاوطنی کو صبر کا عنوان بنایا، زہر کو رضائے الٰہی کا جام بنایا اور شہادت کو ابدی حیات کی معراج بنا دیا۔

اَلسَّلَامُ عَلَى عَلِيِّ بْنِ مُوسَى الرِّضَا، يَوْمَ وُلِدَ، وَيَوْمَ اسْتُشْهِدَ، وَيَوْمَ يُبْعَثُ حَيًّا۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button