اربعین حسینیماتمی انجمنیں اور حسینی شعائر

مشایۂ اربعین کا عظیم ورثہ، جب عاشقانِ حسین علیہ السلام کے قدم عشقِ حسینی کا پیغام بن گئے

مشایۂ اربعین محض ایک مذہبی رسم یا سالانہ اجتماع نہیں، بلکہ ایک ایسا عظیم تاریخی، تہذیبی اور سماجی ورثہ ہے جو صدیوں سے نسل در نسل عشق، وفاداری، ایثار اور استقامت کے ساتھ منتقل ہوتا چلا آ رہا ہے۔

گزشتہ دہائیوں کی محفوظ نادر تصاویر اس روحانی سفر کی گہرائی، اس کی قدامت اور اہلِ ایمان کی والہانہ وابستگی کی زندہ شہادت ہیں۔

ہمارے ساتھی رپورٹر نے اپنی خصوصی رپورٹ میں اس تاریخی ورثے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا ہے۔

اربعینِ حسینی صرف ایک مذہبی مناسبت کا نام نہیں، بلکہ ایک ایسا عالمگیر شعیرہ ہے جو عراق کی تاریخ، ثقافت اور شیعہ معاشرے کی اجتماعی یادداشت میں صدیوں سے رچا بسا ہوا ہے۔

اس وقت بھی، جب دنیا اس عظیم اجتماع سے ناواقف تھی اور عالمی ذرائع ابلاغ نے ابھی اس کی عظمت کو اجاگر نہیں کیا تھا، لاکھوں عاشقانِ سیدالشہداء علیہ السلام ننگے پاؤں یا بوسیدہ جوتوں میں، دلوں میں عشقِ حسین علیہ السلام کی شمع روشن کئے، کربلا کی جانب رواں دواں رہتے تھے۔

انیس سو پچاس سے انیس سو ستر کی دہائی تک، شدید حکومتی پابندیوں، سیاسی جبر اور دشوار معاشی حالات کے باوجود مشایۂ اربعین کا یہ مقدس سفر کبھی رکا نہیں۔

ان برسوں کی محفوظ تصاویر اس حقیقت کی آئینہ دار ہیں کہ مؤمنین کے پاس صرف مضبوط ایمان ہی نہیں، بلکہ شعائرِ حسینی کے تحفظ کے لئے فولادی عزم اور ناقابلِ تسخیر حوصلہ بھی موجود تھا۔

60 کی دہائی کے اواخر کی ایک تاریخی تصویر میں زائرین کا ایک قافلہ آبی راستے سے کربلا کی جانب سفر کرتا دکھائی دیتا ہے۔ اس یادگار تصویر میں مرحوم حسن دریائی، مرحوم فلاح الجبوری، مرحوم حمادہ مراد، مرحوم سید علی حسینی قائینی، مرحوم محمد رضا الاعسم، مرحوم سعید الخطاط اور مرحوم فؤاد الشاعر شامل ہیں۔

ان کے سادہ لباس، پُرسکون چہرے اور پُرخلوص انداز اس مردمی تحریک کی سادگی، اخلاص اور روحانی عظمت کو نمایاں کرتے ہیں۔

سن 1975ء کی ایک اور تصویر میں شہید قاسم شبر اور مرحوم سید سلمان خطیب موکبِ عزاداری نعمانیہ میں شریک نظر آتے ہیں۔

اس دور میں مواکب صرف عزاداری کے مراکز نہیں تھے بلکہ وہ ظلم، آمریت اور سیاسی استبداد کے خلاف استقامت، بیداری اور مزاحمت کی روشن علامت بھی تھے۔

ایک نادر تاریخی تصویر میں آیۃ اللہ سیبویہ، سید جواد کلبی‌کانی اور شہید آیۃ اللہ عبدالصاحب حکیم عام زائرین کے شانہ بشانہ کربلا کی سمت پیدل سفر کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ منظر اس حقیقت کا روشن ثبوت ہے کہ مشایۂ اربعین مرجعیت، عوام اور عشقِ حسینیؑ کے باہمی اتحاد، اخوت اور روحانی ہم آہنگی کا بے مثال مظہر ہے۔

اسی طرح سن 1974ء کی ایک تصویر میں عوامی تنظیم "میثم تمار” کے افراد اپنے مخصوص پرچم اور منظم انداز کے ساتھ اربعین کے راستے پر گامزن دکھائی دیتے ہیں۔

یہ منظر مؤمنین کے نظم، اتحاد، اجتماعی شعور اور دینی وابستگی کی خوبصورت تصویر پیش کرتا ہے۔

یہ تمام تاریخی تصاویر دفتر مرجع عالی قدر آیۃ اللہ العظمیٰ سید صادق حسینی شیرازی سے وابستہ علمی تحقیقی مرکز نجف اشرف اسٹریٹجک اسٹڈیز سینٹر نے محفوظ اور جمع کی ہیں۔ یہ تصاویر محض تاریخی ریکارڈ نہیں بلکہ ایک زندہ دستاویز ہیں، جو اس حقیقت کی گواہی دیتی ہیں کہ امام حسین علیہ السلام کا راستہ ہمیشہ اہلِ ایمان نے اپنے قدموں، اپنے آنسوؤں اور اپنے دلوں کے اخلاص سے طے کیا ہے۔

آج بھی یہی شعیرۂ مقدسہ اسی ایمان، محبت اور والہانہ جذبے کے ساتھ پوری آب و تاب سے جاری ہے۔

تھکے ہوئے قدم، مگر روشن دل، بصرہ سے کربلا اور نجف سے کربلا تک عشقِ حسین‌ علیہ السلام کی منازل طے کر رہے ہیں۔ نہ زمانے کی گردش، نہ جابر حکمرانوں کا ظلم، اور نہ ہی سفر کی مشقتیں اس عظیم روحانی رشتے کو کمزور کر سکیں۔

مشایۂ اربعین درحقیقت راہِ امام حسین علیہ السلام سے وفاداری، ایثار اور عشق کا لازوال استعارہ ہے۔ یہ وہ روحانی شاہراہ ہے جو زمین کو آسمان سے، دلوں کو ولایت سے اور انسان کو خدا سے جوڑتی ہے۔ اس راہ کا ہر قدم امید کا چراغ، عشقِ حسینیؑ کا پیغام اور ایمان کی تجدید کا اعلان ہے۔ یہی وہ مقدس سفر ہے جو ہر سال لاکھوں دلوں کو نورِ الٰہی، محبتِ اہلِ بیت علیہم السلام اور مقصدِ کربلا سے ازسرِنو وابستہ کر دیتا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button