اربعین حسینیعراق

اربعینِ حسینی؛ دنیا کا سب سے بڑا سالانہ مذہبی اجتماع

حضرت امام حسین علیہ السلام کے عالمگیر انسانی پیغام کا عظیم مظہر

اربعینِ حسینی کی عظیم پیدل زیارت (مشی) میں دنیا بھر سے کروڑوں زائرین کی بے مثال شرکت نے اس مقدس اجتماع کو محض ایک مذہبی رسم تک محدود نہیں رہنے دیا، بلکہ اسے امن، باہمی رواداری، ایثار، خدمتِ خلق اور ظلم و ناانصافی کے خلاف استقامت کے عالمی پیغام کا ایک منفرد اور بین الاقوامی مظہر بنا دیا ہے۔

اس موضوع پر ہمارے نمائندے کی خصوصی رپورٹ ملاحظہ فرمائیے:

اربعینِ حسینی کا عظیم اجتماع حق طلبی، عدل و انصاف اور انسانی کرامت کے محور پر پوری انسانیت کے اتحاد کی ایک درخشاں اور بے مثال علامت ہے۔

یہ منفرد اجتماع ہر سال دنیا کے مختلف ممالک سے آنے والے اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کے کروڑوں عقیدت مندوں اور محبان کو ایک مقام پر جمع کرتا ہے، تاکہ واقعۂ عاشورا کے ابدی اور آفاقی پیغام کو عملی طور پر زندہ رکھا جا سکے۔

یہ ایسا بے نظیر اجتماع ہے جہاں قوم، نسل، زبان، رنگ، وطن اور جغرافیہ کی تمام ظاہری تقسیمیں مٹ جاتی ہیں اور اخلاق، اخوت، آزادی اور انسان دوستی کی بنیاد پر حقیقی ہم آہنگی اور بھائی چارہ پروان چڑھتا ہے۔

مذہبی امور کے ممتاز محققین اور ماہرین کے مطابق، کربلائے معلیٰ میں ہر سال دو کروڑ سے زائد زائرین کی شرکت کے ساتھ زیارتِ اربعین دنیا کا سب سے بڑا سالانہ مذہبی اجتماع اور پیدل زیارت (مشی) شمار ہوتی ہے۔

ان کے مطابق لاکھوں رضاکاروں کی جانب سے ہزاروں مواکب میں بلاامتیاز، شب و روز اور کسی مادی غرض کے بغیر زائرین کی خدمت، ثقافتِ حسینی میں ایثار، مواسات، سخاوت اور انسان دوستی کی ایک زندہ اور عملی تصویر پیش کرتی ہے، جس کی مثال دنیا میں کم ہی ملتی ہے۔

ماہرین اور اہلِ فکر اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ حضرت امام حسین علیہ السلام آج آزادی، شجاعت اور ظلم کے خلاف جدوجہد کی ایک عالمگیر علامت بن چکے ہیں، جن کے افکار اور سیرت سے مختلف ادیان اور اقوام کے لوگ بھی رہنمائی اور الہام حاصل کرتے ہیں۔

ان کے مطابق کربلا صرف ایک تاریخی یا جغرافیائی مقام نہیں، بلکہ انسانی عزت، معاشرتی اصلاح، انصاف اور پائیدار امن کے خواہاں تمام معاشروں کے لیے امید، بیداری اور حوصلے کا سرچشمہ ہے۔

اربعین کا یہ عظیم اور روح پرور اجتماع اسلامِ محمدیؐ کے حقیقی، رحمانی اور انسان دوست چہرے کو دنیا کے سامنے متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ محبت، رواداری، اخوت اور بے لوث خدمتِ خلق کے فروغ کا ایک نہایت مؤثر عالمی موقع بھی فراہم کرتا ہے۔

تجزیہ نگاروں اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق، اربعینِ حسینی کا یہ عظیم اجتماع انسانی یکجہتی، مساوات، اخوت اور باہمی احترام کا ایک بے مثال نمونہ ہے۔

یہ اجتماع پوری دنیا کو یہ واضح پیغام دیتا ہے کہ محبت، کرامت، ایثار اور عدل جیسی اعلیٰ انسانی اقدار میں وہ غیر معمولی قوت موجود ہے جو لاکھوں انسانوں کو ایک ہی پرچم تلے "الحسین یوحدنا” (حسینؑ ہمیں متحد کرتے ہیں) کے پیغام کے ساتھ یکجا کر سکتی ہے۔ اسی لئے اربعین کی عظیم مشایہ آج پوری انسانیت کے درمیان اتحاد، اخوت، ہمدردی اور مشترکہ انسانی اقدار کی ایک دائمی اور تابندہ علامت بن چکی ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button