ماتمی انجمنیں اور حسینی شعائر

جلوس عزا یعنی کربلا کی مظلومیت اور مقصد کو دنیا تک پہنچانا: مولانا سید روح ظفر رضوی

جلوس عزا یعنی کربلا کی مظلومیت اور مقصد کو دنیا تک پہنچانا: مولانا سید روح ظفر رضوی

ممبئی: خوجہ شیعہ اثناء عشری جامع مسجد، پالا گلی، ممبئی میں 24 جولائی 2026 کو نمازِ جمعہ حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید روح ظفر رضوی کی اقتدا میں ادا کی گئی، جس میں مؤمنین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

خطبۂ جمعہ میں مولانا سید روح ظفر رضوی نے تقویٰ الٰہی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تقویٰ اختیار کرنا ہر مومن کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ انسان کو اپنی زندگی اس انداز سے گزارنی چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ، رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام اور امامِ زمانہ حضرت حجت بن الحسن العسکری عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی رضا و خوشنودی حاصل کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ حلال کو اختیار کرنا اور حرام سے مکمل اجتناب ہی حقیقی تقویٰ کی بنیاد ہے۔

مولانا سید روح ظفر رضوی نے سورۂ آلِ عمران کی آیت "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ” کی روشنی میں کہا کہ قیامِ عاشورا اور عزاداریِ امام حسین علیہ السلام کا ایک اہم مقصد انسان میں تقویٰ پیدا کرنا اور اسے اس حال میں دنیا سے رخصت ہونا سکھانا ہے کہ وہ حقیقی مسلمان ہو۔

مولانا سید روح ظفر رضوی نے امام حسین علیہ السلام کے اس تاریخی فرمان "میں اپنے جد کی امت کی اصلاح کے لئے نکلا ہوں” کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امام حسین علیہ السلام نے دین میں پیدا کی گئی خرابیوں کی اصلاح کے لئے قیام فرمایا تاکہ جن امور کو حلال یا حرام کی حقیقی حیثیت سے بدل دیا گیا تھا، انہیں دوبارہ ان کی اصل حالت پر قائم کیا جا سکے۔

انہوں نے عزاداریِ امام حسین علیہ السلام میں اخلاص کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ہمیں آزادی کے ساتھ عزاداری کا موقع میسر ہے، لہٰذا ہر عمل صرف رضائے الٰہی کے لئے انجام دیا جائے اور ریا، نمود و نمائش اور خودنمائی سے مکمل اجتناب کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تبرکاتِ عزا اور دیگر شعائرِ حسینی اس انداز سے پیش کئے جائیں کہ کربلا کی یاد تازہ ہو اور ان کا تقدس برقرار رہے۔

مولانا سید روح ظفر رضوی نے امام حسین علیہ السلام کے نام پر پیاسوں کو پانی پلانے اور بھوکوں کو کھانا کھلانے کی فضیلت بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ عظیم خدمت ضرور انجام دی جائے، لیکن اس انداز سے نہیں کہ دنیا یہ سمجھے کہ عزاداری کا مقصد صرف یہی ہے، بلکہ اصل مقصد امام حسین علیہ السلام کے پیغام کو زندہ رکھنا ہے۔

انہوں نے اسلامی حجاب کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ حضرت زینب سلام اللہ علیہا اور اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کی اسیری ہمیں عفت و حجاب کے تحفظ کا درس دیتی ہے۔ انہوں نے بالخصوص خواتین سے اپیل کی کہ ایامِ عزاداری میں حجاب اور پردے کا خصوصی اہتمام کریں۔

مولانا سید روح ظفر رضوی نے کہا کہ عزاداری کے جلوس دیگر جلوسوں سے اس لئے منفرد ہیں کہ ان کا مقصد کربلا کی مظلومیت اور امام حسین علیہ السلام کے آفاقی پیغام کو دنیا تک پہنچانا ہے، لہٰذا ہر ایسے عمل سے اجتناب ضروری ہے جو اس عظیم مقصد میں رکاوٹ بنے۔

ملک میں اپنے حقوق کے لئے احتجاج کرنے والے طلبہ پر تشدد اور لاٹھی چارج کی مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نوجوان ہی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ان کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرے اور سیاسی مفادات کے بجائے قومی مفاد، انسانی اقدار، یکجہتی اور استحکام کو ترجیح دے۔

انہوں نے عوام پر زور دیا کہ ایس آئی آر (SIR) فارم بروقت پُر کریں، متعلقہ بی ایل او (BLO) سے رابطہ کریں اور اس عمل کو پوری سنجیدگی سے مکمل کریں۔

آخر میں مولانا سید روح ظفر رضوی نے شلمچہ سرحد پر زائرینِ اربعین پر ہونے والے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بے گناہ شہریوں، خواتین اور بچوں کو نشانہ بنانا انسانیت کے خلاف سنگین جرم ہے۔ انہوں نے کہا کہ دشمن زیارتِ امام حسین علیہ السلام کے جذبے کو کمزور کرنا چاہتا ہے، مگر اس کے باوجود لاکھوں زائرین پوری عقیدت کے ساتھ کربلا کی جانب رواں ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایسے حالات میں کربلا کی مظلومیت، امام حسین علیہ السلام کے آفاقی پیغام اور حسینی فکر کو مزید مؤثر انداز میں دنیا کے سامنے پیش کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button