یورپ

اٹلی میں سترہ لاکھ مسلمانوں کی تلخ حقیقت؛ مذہبی پابندیاں، مساجد اور قبرستانوں کی کمی، اسلاموفوبیا میں اضافہ

اٹلی میں سترہ لاکھ مسلمانوں کی تلخ حقیقت؛ مذہبی پابندیاں، مساجد اور قبرستانوں کی کمی، اسلاموفوبیا میں اضافہ

اٹلی میں تقریباً سترہ لاکھ مسلمانوں پر مشتمل برادری، ملک کی سماجی اور اقتصادی ترقی میں مؤثر کردار ادا کرنے کے باوجود، مذہبی پابندیوں، سخت سکیورٹی نگرانی اور منظم امتیازی رویّوں کا سامنا کر رہی ہے۔

مساجد کی تعمیر میں رکاوٹیں، اسلامی طریقۂ تدفین کے لئے قبرستانوں کی کمی اور بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا نے اس بڑی اقلیت کی مذہبی اور سماجی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے، جس کے باعث بہت سے مسلمان خود کو "دوسرے درجے کا شہری” محسوس کرتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، اٹلی میں مسلمانوں کی آبادی سترہ لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، لیکن گزشتہ چند برسوں کے دوران انہیں شدید ساختی دباؤ اور مذہبی امتیاز کا سامنا رہا ہے۔

خصوصاً 11 ستمبر 2001 کے واقعات اور یورپ میں ہجرت کے بحران کے بعد مسلمانوں کے بارے میں سکیورٹی پر مبنی حکومتی رویہ مزید سخت ہو گیا، جس کے اثرات ان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے تقریباً ہر شعبے پر نمایاں ہیں۔

اناطولی نیوز ایجنسی کے مطابق، دائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کے دباؤ اور سخت گیر پالیسیوں کے باعث اطالوی حکومت نے اسلامی اداروں کے حوالے سے نگرانی اور کنٹرول پر مبنی حکمتِ عملی اختیار کر رکھی ہے۔

عبادت گاہوں کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جاتی ہے، ائمۂ جماعت کی تربیت اور تقرری کے لئے پیچیدہ قانونی تقاضے عائد ہیں، جبکہ مذہبی تنظیموں پر بھی سخت ضابطے نافذ کئے گئے ہیں۔

شہری اور مذہبی حقوق کے حوالے سے سب سے بڑا مسئلہ قانونی اور رجسٹرڈ مساجد کی شدید کمی ہے، جس کے باعث بہت سے مسلمان پارکنگ ایریاز، عارضی نماز گاہوں یا دیگر غیر رسمی مقامات پر نماز ادا کرنے پر مجبور ہیں۔

اسی طرح اسلامی طریقۂ تدفین کے لئے مخصوص قبرستانوں اور زمین کی قلت بھی ایک سنگین مسئلہ ہے، جس کی وجہ سے کسی عزیز کے انتقال پر مسلمان خاندانوں کو شدید ذہنی اذیت اور قانونی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

دینی تعلیم کے مناسب مراکز کی کمی اور مذہبی و سماجی خدمات کے فقدان نے بھی ان مشکلات کو مزید بڑھا دیا ہے۔

دوسری جانب دائیں بازو کی سیاسی جماعتوں اور ان سے وابستہ بعض ذرائع ابلاغ کی سرگرمیوں کے نتیجے میں اسلاموفوبیا اور مسلمانوں کے خلاف منفی بیانیے کو فروغ ملا ہے، جس سے معاشرے میں بداعتمادی اور سماجی فاصلے میں اضافہ ہوا ہے۔

اس صورتِ حال نے بین الثقافتی ہم آہنگی کو بھی متاثر کیا ہے۔

ان تمام مشکلات، امتیازی رویّوں اور "دوسرے درجے کی شہریت” جیسے احساسات کے باوجود، اٹلی کی مسلم برادری اپنی مذہبی شناخت کے تحفظ، قانون کے احترام، پُرامن بقائے باہمی اور ملک کی سماجی و اقتصادی ترقی میں مثبت کردار ادا کرنے کے عزم پر قائم ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button