9 صفر؛ یوم شہادت حضرت عمار یاسر رضوان اللہ علیہ

اسلامی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہیں جن کی زندگی محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ حق و باطل کے درمیان امتیاز کا دائمی معیار بن جاتی ہے۔ حضرت عمار بن یاسر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ انہی بلند مرتبت نفوس میں سے ہیں، جنہوں نے ایمان کو صرف زبان کا اقرار نہیں، بلکہ زندگی کا مقصد، کردار کا عنوان اور شہادت تک کا سفر بنا دیا۔ 9 صفر کی مناسبت سے جب یہ عظیم ہستی یاد کی جاتی ہے تو درحقیقت یہ حق، وفاداری، بصیرت اور ولایت سے تجدیدِ عہد کا دن بھی ہوتا ہے۔
حضرت عمار بن یاسر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کا نام لیتے ہی اسلام کے ابتدائی دور کی وہ کٹھن گھڑیاں نگاہوں کے سامنے آ جاتی ہیں جب توحید کی صدا بلند کرنا گویا جان ہتھیلی پر رکھ لینے کے مترادف تھا۔ مکہ کی تپتی ہوئی ریت، ظلم کی سیاہ راتیں، جسم پر برسنے والے کوڑے اور اہلِ ایمان پر ڈھائے جانے والے مظالم، سب حضرت عمار رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کے صبر و استقامت کے گواہ ہیں۔
وہ اس خانوادے کے فرد تھے جس نے اسلام کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کر دیا۔ والد حضرت یاسر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے جان نچھاور کی، والدہ حضرت سمیہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہا نے تاریخِ اسلام کی پہلی شہیدہ ہونے کا شرف پایا، اور حضرت عمار رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے ظلم کے ہر طوفان کے سامنے ایمان کا چراغ بجھنے نہ دیا۔
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمار رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کے بارے میں جو کلمات ارشاد فرمائے، وہ ان کے مقام و منزلت کی سب سے بڑی سند ہیں۔ آپؐ نے فرمایا کہ "عمار سر سے قدم تک ایمان سے بھرے ہوئے ہیں” اور ایک دوسری مشہور حدیث میں خبر دی کہ "عمار کو ایک باغی گروہ شہید کرے گا۔” یہ وہ نبوی پیشین گوئی تھی جس نے بعد کے سیاسی و تاریخی اختلافات میں بھی حق کی سمت متعین کر دی۔
حضرت عمار رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی زندگی کا سب سے نمایاں وصف ولایتِ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام سے غیر متزلزل وابستگی تھا۔ انہوں نے نہ حالات کی سختی دیکھی، نہ دنیاوی مصلحتوں کو معیار بنایا، بلکہ ہمیشہ وہاں کھڑے ہوئے جہاں حق موجود تھا۔ حضرت سلمان فارسی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ، حضرت ابوذر غفاری رضوان اللہ تعالیٰ علیہ اور حضرت مقداد رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی طرح حضرت عمار رضوان اللہ تعالیٰ علیہ بھی ان جلیل القدر اصحاب میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اہلِ بیت علیہم السلام کی محبت اور حمایت کو اپنے ایمان کا لازمی تقاضا سمجھا۔
جنگِ صفین حضرت عمار رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی حیات کا آخری باب ضرور تھا، مگر یہی باب ان کی عظمت کو ہمیشہ کے لئے امر کر گیا۔ عمر نوّے برس سے تجاوز کر چکی تھی، مگر جذبۂ جہاد جوان تھا۔ جب میدانِ جنگ میں دودھ کا پیالہ ان کے سامنے آیا تو انہیں فوراً رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وہ بشارت یاد آ گئی کہ دنیا میں ان کا آخری رزق دودھ ہوگا۔ حضرت عمار رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے مسکراتے ہوئے دودھ نوش کیا، اپنے پروردگار کا شکر ادا کیا اور پھر اسی یقین کے ساتھ میدانِ کارزار میں اتر گئے کہ اب وعدۂ رسولؐ پورا ہونے والا ہے۔ کچھ ہی دیر بعد وہ راہِ خدا میں شہادت کے بلند مقام پر فائز ہو گئے، اور یوں نبوی فرمان تاریخ کے صفحات پر حقیقت بن کر ثبت ہو گیا۔
حضرت عمار رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی شہادت نے صرف ایک وفادار صحابی کو ہم سے جدا نہیں کیا بلکہ امت کے سامنے حق و باطل کی ایک واضح علامت بھی قائم کر دی۔ اسی لئے امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے ان کی جدائی پر گہرے رنج کا اظہار فرمایا اور انہیں حق کے سچے علمبرداروں میں شمار کیا۔ حضرت عمار رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کا خون اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ حق کی راہ ہمیشہ آسان نہیں ہوتی، مگر اس کا انجام ہمیشہ عزت، سربلندی اور رضائے الٰہی پر منتج ہوتا ہے۔
آج جب امتِ مسلمہ فکری انتشار، اخلاقی کمزوری اور باطل کے مختلف چہروں سے نبرد آزما ہے، حضرت عمار بن یاسر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی سیرت پہلے سے کہیں زیادہ معنویت اختیار کر چکی ہے۔ وہ ہمیں سکھاتے ہیں کہ ایمان صرف عبادات کا نام نہیں بلکہ بصیرت، حق شناسی، ظلم کے مقابل قیام، اور ولایتِ الٰہی سے وابستگی کا نام ہے۔ اگر انسان کے پاس عمار جیسی بصیرت ہو تو وہ فتنوں کے ہجوم میں بھی حق کا راستہ پہچان لیتا ہے، اور اگر عمار جیسی استقامت ہو تو دنیا کی کوئی طاقت اسے اپنے موقف سے ہٹا نہیں سکتی۔
9 صفر ہمیں یہی پیغام دیتا ہے کہ حضرت عمار بن یاسر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کو محض ایک تاریخی شخصیت کے طور پر یاد نہ کیا جائے، بلکہ ان کی سیرت کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا حصہ بنایا جائے۔ ان کا کردار ہمیں یاد دلاتا ہے کہ حق کی حمایت کبھی پرانی نہیں ہوتی، ولایت سے وفاداری کبھی بے معنی نہیں ہوتی، اور اللہ کی راہ میں ثابت قدم رہنے والے کبھی تاریخ کے صفحات میں گم نہیں ہوتے، بلکہ وہ رہتی دنیا تک انسانیت کے لیے چراغِ ہدایت بنے رہتے ہیں۔




