عراق

ایران اور عراق کے درمیان سرحدی رابطہ کاری میں رکاوٹ، شلمچہ بارڈر پر افغان مہاجر زائرین مشکلات کا شکار

ایران اور عراق کے درمیان سرحدی رابطہ کاری میں رکاوٹ، شلمچہ بارڈر پر افغان مہاجر زائرین مشکلات کا شکار

شلمچہ سرحدی گزرگاہ سے موصول ہونے والی زمینی رپورٹس کے مطابق ایران میں مقیم سیکڑوں افغان مہاجر زائرین، جن کے پاس "دفترچۂ خادم” موجود ہے، ایران اور عراق کے درمیان سرحدی رابطہ کاری میں کمی اور عراقی سرحدی حکام کی جانب سے ان دستاویزات کو تسلیم نہ کئے جانے کے باعث شدید مشکلات اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔

اس حوالے سے ہمارے نمائندے کی رپورٹ ملاحظہ کیجیے:

اربعین حسینی کے عظیم الشان اجتماع کے قریب آتے ہی، جب اہلِ بیت علیہم السلام کے لاکھوں عشاق زیارت کے لئے سرحدی گزرگاہوں کا رخ کر رہے ہیں، ایران میں مقیم افغان مہاجر زائرین کی شلمچہ بارڈر سے عراق روانگی ایک سنگین مسئلہ سے دوچار ہو گئی ہے۔

بہت سے زائرین، جنہوں نے "دفترچۂ خادم” حاصل کرنے کے بعد شلمچہ سرحد کا رخ کیا، اب دونوں ممالک کے درمیان مسافروں کے داخلے سے متعلق مختلف ضوابط اور ہدایات کے باعث سرحد پر رکے ہوئے ہیں۔

یہ صورتحال اس امر کی واضح نشاندہی کرتی ہے کہ سفری دستاویزات جاری کرنے سے قبل دونوں ممالک کے درمیان مؤثر، پیشگی اور جامع رابطہ کاری ناگزیر تھی۔

"موکب اطلاع رسانی اربعین حسینیِ مہاجرین” میں شائع ہونے والی عوامی رپورٹس کے مطابق عراقی سرحدی حکام اس نوعیت کے "دفترچۂ خادم” رکھنے والے زائرین کو عراق میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے رہے۔

اگرچہ ایرانی حکام ان دستاویزات پر خروج کی مہر ثبت کر چکے ہیں، تاہم مشترکہ طریقۂ کار پر حتمی اتفاق یا اس کی باضابطہ اطلاع نہ ہونے کے باعث عراقی اہلکار، خصوصاً غیر شادی شدہ افراد کے داخلے سے متعلق ضوابط کو بنیاد بنا کر ان زائرین کا داخلہ روک رہے ہیں۔

قوانین کے نفاذ میں یہ تضاد اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ایرانی حکام نے عراقی فریق کی شرائط اور طریقۂ کار کا بروقت اور درست اندازہ نہیں لگایا، جس کے نتیجہ میں واضح غفلت اور سرحدی سطح پر ناکافی ہم آہنگی سامنے آئی ہے۔

یہ انتظامی بے ربطی صرف انفرادی زائرین تک محدود نہیں رہی، بلکہ مہاجرین کے اطلاع رسانی پلیٹ فارم کے مطابق "اخت الرضا سلام اللہ علیہا” کے نام سے منسوب ایک بڑا اور باقاعدہ رجسٹرڈ قافلہ بھی سرحدی دروازے پر رک گیا۔

اس قافلہ میں ایران کے صوبہ خراسانِ رضوی، قم اور ضلع کاشان کے افغان زائرین شامل تھے، لیکن ابتدائی اجازت نامے موجود ہونے کے باوجود دوطرفہ سرحدی رابطہ کاری کی کمزوری کے باعث وہ بھی عراق میں داخل نہ ہو سکے۔

ادھر شلمچہ سرحدی ٹرمینل پر سیکڑوں معمر زائرین، خواتین اور بچے بنیادی سہولیات سے محروم شدید گرمی میں انتظار کرنے پر مجبور ہیں۔

متعلقہ حکام کی جانب سے کوئی واضح مؤقف سامنے نہ آنے کے باعث مہاجر خاندانوں کی تشویش میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

موجودہ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ ایران اور عراق کے سفارتی و سرحدی حکام فوری طور پر مؤثر رابطہ کاری کو یقینی بنائیں اور اس انتظامی مسئلے کے حل کے لیے ہنگامی اقدامات کریں، تاکہ زائرین کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button