دہلی میں طلبہ کا زبردست احتجاج، پارلیمنٹ مارچ کی کوشش، پولیس سے جھڑپیں

دارالحکومت نئی دہلی میں پیر کے روز ہزاروں طلبہ نے امتحانی نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں، پرچہ لیک، بھرتیوں میں شفافیت کے فقدان اور تعلیمی اصلاحات کے مطالبے کے لیے بڑے پیمانے پر احتجاج کیا۔ مظاہرین نے "چلو پارلیمنٹ” مارچ کی کوشش کی، تاہم دہلی پولیس نے سخت حفاظتی انتظامات کے تحت انہیں پارلیمنٹ کی جانب پیش قدمی سے روک دیا۔
احتجاج میں مختلف یونیورسٹیز، کالجز اور تعلیمی اداروں سے تعلق رکھنے والے طلبہ اور متعدد طلبہ تنظیموں کے کارکنوں نے شرکت کی۔ مظاہرین نے حکومت کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ امتحانی بے ضابطگیوں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، پرچہ لیک میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے اور متاثرہ امیدواروں کو فوری انصاف فراہم کیا جائے۔
پولیس نے پارلیمنٹ کی طرف جانے والے اہم راستوں پر بیریکیڈز لگا کر سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے تھے۔ جب مظاہرین نے آگے بڑھنے کی کوشش کی تو بعض مقامات پر پولیس اور طلبہ کے درمیان دھکم پیل اور جھڑپیں ہوئیں۔ اطلاعات کے مطابق متعدد مظاہرین کو حراست میں لیا گیا، جبکہ صورتحال پر قابو پانے کے لیے اضافی پولیس نفری تعینات کر دی گئی۔
احتجاج کے باعث مرکزی دہلی میں ٹریفک کا نظام بری طرح متاثر ہوا، جبکہ احتیاطی اقدام کے طور پر دہلی میٹرو کے چند اسٹیشن عارضی طور پر بند کر دیے گئے، جس سے شہریوں کو آمد و رفت میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔
دریں اثنا مختلف اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے حکومت کو تعلیمی نظام میں پائی جانے والی خامیوں کا ذمہ دار قرار دیا۔ دوسری جانب حکومت کا کہنا ہے کہ امتحانی نظام کو مزید شفاف اور مؤثر بنانے کے لیے اصلاحی اقدامات جاری ہیں اور بے ضابطگیوں کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔
ادھر طلبہ تنظیموں نے اعلان کیا ہے کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کئے گئے تو احتجاج کا دائرہ ملک کے دیگر حصوں تک بھی وسیع کیا جائے گا۔ پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے آغاز کے ساتھ ہونے والے اس احتجاج نے ایوان کے اندر بھی سیاسی ہنگامہ آرائی کو جنم دیا، جہاں اپوزیشن نے طلبہ کے مسائل اور پولیس کارروائی پر حکومت سے جواب طلب کیا۔



