افغانستانخبریں

پاکستانی سرحدی راستوں کی بندش اور ویزوں کے اجرا کی معطلی

افغان شہری غیر قانونی اور خطرناک راستے اختیار کرنے پر مجبور، انسانی اسمگلروں کی چاندی

پاکستان کی جانب سے افغانستان سے ملحقہ سرحدی گزرگاہوں کی بندش اور افغان شہریوں کے لیے قانونی ویزوں کے اجرا کا عمل معطل ہونے کے باعث، سیکڑوں افغان شہری، خصوصاً لاعلاج اور سنگین بیماریوں میں مبتلا مریض، خطرناک غیر قانونی راستوں سے سفر کرنے اور اسمگلروں کو بھاری رقوم ادا کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

ہمارے ساتھی نے اپنی رپورٹ میں اس صورتحال کی تفصیلات بیان کی ہیں، آئیے ملاحظہ کرتے ہیں:

پاکستانی سرحدی گزرگاہوں کی اچانک بندش اور ویزوں کے اجرا کا مکمل تعطل، افغانستان کے ان سیکڑوں شہریوں کے لیے شدید انسانی بحران کا سبب بن گیا ہے جو علاج، ہجرت یا دیگر ضروری مقاصد کے لیے پاکستان جانا چاہتے ہیں، بالخصوص وہ مریض جو پیچیدہ اور جان لیوا بیماریوں میں مبتلا ہیں اور وہ افراد جن کے امیگریشن کے معاملات زیرِ کارروائی ہیں۔

افغانستان میں جدید طبی سہولیات کی کمی اور دیگر قانونی سفری راستوں کے بند یا انتہائی مہنگا ہونے کے باعث، بے بس خاندان اب غیر قانونی راستے اختیار کرنے اور اپنی جان و مال انسانی اسمگلروں اور دلالوں کے حوالے کرنے پر مجبور ہیں۔

روزنامہ ۸ صبح کی شائع کردہ رپورٹ کے مطابق، سرحدوں کی بندش نے انسانی اسمگلروں اور دلالوں کے لیے سرگرمیوں کے وسیع مواقع پیدا کر دیے ہیں اور بلیک مارکیٹ غیر معمولی طور پر گرم ہو چکی ہے۔

اس میڈیا ادارے سے گفتگو کرنے والے متاثرہ افغان شہریوں کا کہنا ہے کہ انسانی اسمگلر افغانستان کے جنوبی سرحدی علاقوں سے غیر قانونی راستوں کے ذریعے پاکستان پہنچانے کے عوض فی کس ایک لاکھ سے دو لاکھ پاکستانی روپے وصول کر رہے ہیں۔

مشکل معاشی حالات میں یہ بھاری اخراجات پہلے ہی مالی مشکلات کا شکار خاندانوں پر مزید بوجھ بن گئے ہیں۔

مالی نقصان کے علاوہ، ان غیر قانونی راستوں سے سفر کرنے والوں کو شدید جانی خطرات بھی لاحق ہیں، جن میں سرحد پار پاکستانی اہلکاروں کے ہاتھوں تشدد، گرفتاری اور قید جیسے خطرات شامل ہیں۔

سرحدی دلالوں نے طلب میں اضافے کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ وصول کی جانے والی رقم کا ایک حصہ سرحد پر موجود بعض افراد کے ساتھ رابطہ اور معاملات طے کرنے پر خرچ کیا جاتا ہے۔

دوسری جانب، بلیک مارکیٹ میں فروخت ہونے والے ویزے، جن کی قیمت بعض اوقات تین ہزار امریکی ڈالر تک پہنچ جاتی ہے، پاکستان کے سرکاری سرحدی مقامات اور ہوائی اڈوں پر قابلِ قبول نہیں ہوتے اور ان کی حیثیت صرف افغانستان کے اندر تک محدود رہتی ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ سیاسی کشیدگی کے بعد سرحدی راستوں کی بندش نے نہ صرف افغانستان میں علاج اور ہجرت سے متعلق انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی سرگرمیوں کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے، جس کے نتیجے میں دونوں جانب کے تاجروں کو لاکھوں ڈالر کے خسارے کا سامنا کرنا پڑ رہاہے.

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button