سعودی عرب کی تنہائی کی کوٹھڑیوں میں سزائے موت کا خوف

امریکی میڈیا کی ایتھوپیا کے پناہ گزینوں کی حالت پر چونکا دینے والی رپورٹ۔
ایک معروف امریکی نیوز نیٹ ورک کی تحقیقاتی رپورٹ نے سعودی عرب کی جیلوں میں سزائے موت کے منتظر ایتھوپیا کے پناہ گزینوں کی نہایت ابتر صورتحال اور ان کے حقوق کی وسیع پیمانے پر خلاف ورزیوں کو بے نقاب کر دیا ہے، جس کے بعد انسانی حقوق کے اداروں میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
یہ وہ پناہ گزین ہیں جو جنگ اور غربت سے بچ کر نکلے، لیکن وکیل، مترجم اور منصفانہ عدالتی کارروائی کے حق سے محروم رہتے ہوئے سزائے موت کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں۔
آئیے اس موضوع پر ہمارے ساتھی کی رپورٹ دیکھتے ہیں۔
سعودی عرب کی سخت گیر پالیسیاں اور اس کا عدالتی نظام ایک بار پھر اس ملک کے انسانی حقوق کے ریکارڈ کو بین الاقوامی توجہ کا مرکز بنا رہے ہیں۔
امریکی ٹیلی ویژن نیٹ ورک سی این این کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق، سعودی عرب کے جنوب مغرب میں واقع خمیس مشیط جیل میں درجنوں ایتھوپیائی تارکینِ وطن منشیات سے متعلق مقدمات میں سزائے موت کے منتظر ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ان کی سزائیں اہلِ خانہ کو پیشگی اطلاع دیے بغیر اور آخری کھانا فراہم کیے بغیر اچانک نافذ کر دی جاتی ہیں۔
اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ حالیہ برسوں میں ان سزاؤں پر عمل درآمد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث قیدی شدید خوف و ہراس میں مبتلا ہیں۔
امریکی میڈیا کی اس رپورٹ، جو قیدیوں، ان کے اہلِ خانہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹس کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے، کے مطابق ان میں سے بہت سے پناہ گزین سعودی عرب میں عدالتی ناانصافی کا شکار ہوئے ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیم ریپریو نے ان مقدمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی حکام کی جانب سے کمزور اور غیر محفوظ تارکینِ وطن کو نشانہ بنانے کا ایک واضح رجحان موجود ہے۔
اس تنظیم کے مطابق، ملزمان کو دورانِ حراست شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جن میں برقی کیبلوں سے مارپیٹ بھی شامل ہے، اور انہیں ایسی زبان میں اعترافی بیانات پر دستخط کرنے پر مجبور کیا گیا جسے وہ پڑھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے۔
سی این این نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ یہ پناہ گزین اکثر انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کا شکار ہوتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، یہ افراد اپنے سفری اخراجات کے قرض کی ادائیگی کے لیے اسمگلروں کے کہنے پر ایسے پیکٹ منتقل کرنے پر مجبور ہوئے جن کے سعودی عرب میں قانونی طور پر ممنوع ہونے سے وہ بے خبر تھے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ افراد اپنی مذہبی آرا اور عقائد کے اظہار کی وجہ سے جیل کے اندر اضافی ہراسانی اور کوڑوں کی سزا کا بھی سامنا کرتے ہیں۔
یورپ۔سعودی عرب انسانی حقوق تنظیم کے ترجمان نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ سعودی عرب میں فوجداری مقدمات کی سماعت منصفانہ ٹرائل کی کم سے کم ضمانتوں سے بھی محروم ہوتی ہے، اور ملزمان عدالتی کارروائی کو سمجھے بغیر ہی سزائے موت کے مستحق قرار دے دیے جاتے ہیں۔
ادیس ابابا اور ریاض کے درمیان دوطرفہ معاہدوں کے باوجود، ایتھوپیا کی حکومت اب تک ان سزاؤں کو روکنے کے لیے کوئی مؤثر سفارتی اقدام نہیں کر سکی، جبکہ قیدی اپنی کوٹھڑیوں کے دروازے پر دستک کی مسلسل دہشت میں دن رات گزار رہے




