افغانستان

کابل میں محنت کش اور سڑکوں پر کام کرنے والے بچوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر شہریوں کی شدید تشویش

غربت، بے روزگاری اور تعلیم سے محرومی نے افغانستان کی نئی نسل کے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیا

افغانستان میں جاری معاشی و معاشرتی بحران کا سب سے بھاری بوجھ معاشرے کے معصوم ترین طبقے، یعنی بچوں، پر پڑ رہا ہے۔

ان دنوں کابل کی سڑکیں ایسے بچوں سے بھری دکھائی دیتی ہیں جو اسکول کی کلاسوں میں بیٹھنے اور بچپن کی خوشیاں سمیٹنے کے بجائے روزی روٹی کی تلاش میں دن بھر محنت کرنے پر مجبور ہیں۔

یہ بچے اپنے خاندان کی کفالت کے لئے پلاسٹک جمع کرتے، پانی فروخت کرتے، جوتے پالش کرتے اور گاڑیوں کے شیشے صاف کرتے نظر آتے ہیں۔ ان میں نقاب اوڑھے کم سن بچیوں کی موجودگی اس انسانی المیہ کی سنگینی کو مزید نمایاں کرتی ہے۔

اسی حوالے سے روزنامہ 8 صبح نے کابل کے شہریوں کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد بڑھتی ہوئی بے روزگاری، شدید غربت اور بین الاقوامی انسانی امداد میں نمایاں کمی وہ بنیادی عوامل ہیں جنہوں نے ہزاروں بچوں کو مزدوری پر مجبور کر دیا ہے۔

شہریوں نے خبردار کیا ہے کہ یہ صورتِ حال نہ صرف ان بچوں کے مستقبل کو تاریک کر رہی ہے بلکہ معاشرے میں ناخواندگی، مستقل غربت اور سماجی پسماندگی کو بھی فروغ دے رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، سڑکوں پر محنت کرنے والے یہ بچے ٹریفک حادثات، تشدد اور مختلف اقسام کے سماجی استحصال جیسے سنگین خطرات سے دوچار ہیں۔ اگر متعلقہ اداروں نے بروقت اور مؤثر اقدامات نہ کیے تو ان کے جرائم پیشہ گروہوں کے چنگل میں پھنسنے کا خدشہ بھی بڑھ سکتا ہے۔

سماجی کارکنوں نے حکومت اور امدادی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ ضرورت مند خاندانوں کی فوری معاشی معاونت کی جائے، تاکہ ان بچوں کو دوبارہ تعلیم کے دھارے میں شامل کیا جا سکے اور ان کا محفوظ مستقبل یقینی بنایا جا سکے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button