خبریںشیعہ مرجعیت

27 محرم؛ یومِ وفاتِ آیۃ اللہ العظمیٰ حاج ملا علی کنی رضوان اللہ تعالی علیہ

علم، مرجعیت، بصیرت اور استقامت کا روشن مینار

آیۃ اللہ العظمیٰ حاج ملا علی کنی رضوان اللہ تعالی علیہ عالمِ تشیع کے ان عظیم مراجعِ تقلید، فقہاء اور مجاہد علماء میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی دینِ اسلام کی سربلندی، مکتبِ اہلِ بیت علیہم السلام کی ترویج، امت کی دینی رہنمائی اور وطن کی آزادی و خودمختاری کے تحفظ کے لئے وقف کر دی۔ آپ نہ صرف ایک بلند پایہ فقیہ، اصولی، محدث، رجالی اور مفسر تھے، بلکہ ایک دوراندیش رہبر، بے باک مصلح، باعمل عالم اور ملتِ اسلامیہ کے حقیقی پاسبان بھی تھے۔

آپ نے نجف اشرف اور کربلائے معلیٰ کے عظیم علمی مراکز میں اپنے عہد کے نامور اساتذہ، جن میں آیات عظام صاحبِ جواہر، شیخ حسن کاشف الغطاء، شریف العلماء مازندرانی، سید ابراہیم قزوینی رضوان اللہ تعالی علیہم اور دیگر اکابر علماء شامل تھے، سے فقہ، اصول، حدیث، رجال اور تفسیر کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ غیر معمولی علمی استعداد، مسلسل ریاضت اور گہری تحقیقی بصیرت نے آپ کو اپنے زمانے کے ممتاز مجتہدین کی صفِ اول میں ممتاز مقام عطا کیا۔

تہران واپسی کے بعد آپ منصبِ مرجعیت پر فائز ہوئے اور مختصر ہی عرصہ میں ایران کے سب سے بااثر دینی رہنما ہو گئے۔ آپ کا علمی وقار، تقویٰ، عدل، تدبر اور عوامی اعتماد اس قدر مستحکم تھا کہ ناصر الدین شاہ قاجار سمیت حکمران طبقہ بھی آپ کی رائے اور رہنمائی کو نظر انداز کرنے کی جرأت نہیں کرتا تھا۔ آپ کی شخصیت اس حقیقت کی عملی تفسیر تھی کہ جب علم، تقویٰ اور عوامی اعتماد یکجا ہو جائیں تو مرجعیت ایک عظیم دینی، سماجی اور اصلاحی قوت بن جاتی ہے۔

آیۃ اللہ العظمیٰ حاج ملا علی کنی رضوان اللہ تعالی علیہ کی حیاتِ مبارکہ کا سب سے درخشاں باب استعماری سازشوں کے خلاف ان کی بے مثال جدوجہد ہے۔ جب معاہدۂ رویٹر کے ذریعہ ایران کے معدنی وسائل، جنگلات، ریلوے، کسٹم اور دیگر قومی اثاثے ایک غیر ملکی کمپنی کے سپرد کرنے کی کوشش کی گئی تو آپ نے اسے محض ایک اقتصادی معاہدہ نہیں، بلکہ ملت کی آزادی، قومی خودمختاری اور اسلامی تشخص کے خلاف ایک خطرناک سازش قرار دیا۔ ناصر الدین شاہ کے نام آپ کا تاریخی احتجاجی خط سیاسی بصیرت، دینی غیرت اور قومی شعور کی ایک زندہ دستاویز ہے۔ آپ کی قیادت میں علماء اور عوام کی متحدہ جدوجہد کے نتیجہ میں یہ استعماری معاہدہ منسوخ ہوا، اور یوں مرجعیتِ شیعہ نے استعمار کے مقابل استقامت اور بیداری کی ایک روشن مثال قائم کی۔

علمی میدان میں بھی آپ کی خدمات نہایت وسیع، گراں قدر اور دیرپا ہیں۔ ارشاد الامۃ، تلخیص المسائل، تحقیق الدلائل، حاشیہ بر جواہر الکلام، توضیح المقال، ایضاح المشتبہات اور مواعظ حسنہ جیسی تصانیف آج بھی علمی و فقہی حلقوں میں معتبر مراجع کی حیثیت رکھتی ہیں۔ خصوصاً تلخیص المسائل فقہی تحقیق کا ایک نہایت اہم سرمایہ ہے، جس سے بعد کے فقہاء نے بھرپور استفادہ کیا اور اپنی تحقیقات میں اس سے استناد کیا۔

آپ کی شخصیت کا ایک اور نمایاں پہلو زہد، سادگی، سخاوت اور خدمتِ خلق تھا۔ بے پناہ دولت کے باوجود آپ نے نہایت سادہ اور قناعت پسندانہ زندگی گزاری۔ یتیموں کی کفالت، مستحقین کی امداد، مریضوں کے علاج کا انتظام، عوامی فلاح و بہبود کے منصوبے، کاروان سراؤں اور آب انباروں کی تعمیر، اور مظلوموں کی حمایت آپ کی عملی زندگی کا مستقل شعار تھے۔ آپ کے دروازے سے کوئی سائل یا حاجت مند مایوس واپس نہیں لوٹتا تھا۔

تربیتِ شاگرد بھی آپ کی علمی خدمات کا ایک اہم باب ہے۔ آپ کے حلقۂ درس سے متعدد جلیل القدر علماء نے کسبِ فیض کیا، جنہوں نے بعد ازاں فقہِ اہلِ بیت علیہم السلام کی ترویج، دینی مراکز کی خدمت اور اسلامی علوم کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اسی طرح آپ کی اولاد اور نسل نے بھی علمی و دینی خدمات اور گراں قدر تصانیف کے ذریعہ آپ کے علمی ورثے کو آگے بڑھایا۔

27 محرم الحرام 1306 ہجری قمری میں اس عظیم مرجع، فقیہ، مصلح اور مجاہد عالم کی وفات ہوئی۔ آپ کو حضرت عبدالعظیم حسنی علیہ السلام کے روضۂ مبارک، شہرِ ری میں سپردِ خاک کیا گیا۔ آپ کے جنازے میں علماء، طلاب، عوام، حکومتی شخصیات اور مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جو آپ کی غیر معمولی مقبولیت، بلند اخلاق اور عوامی اعتماد کا واضح مظہر تھا۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button