ثقافت اور فندنیامقالات و مضامین

عالمی یومِ عفو و درگزر؛ قرآنِ کریم، سورۂ نور اور سیرۂ معصومین علیہم السلام کی روشنی میں صلح، رواداری اور ہمدردی کی ثقافت کا مظہر

7 جولائی عالمی یومِ عفو و درگزر کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ دن صلح و آشتی کی ثقافت کو فروغ دینے، دلوں سے کینہ و عداوت کو دور کرنے، اور دوسروں کے ساتھ ساتھ خود اپنے آپ کو بھی معاف کرنے کی عظیم اخلاقی صفت کی مشق کرنے کا قیمتی موقع فراہم کرتا ہے۔

اسلامی تعلیمات میں عفو و درگزر کو بنیادی اخلاقی اقدار میں شمار کیا گیا ہے۔

قرآنِ کریم نے متعدد مقامات پر انسانوں کو اس عظیم صفت کی ترغیب دی ہے۔ سورۂ نور کی آیت 22 میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "وَلْیَعْفُوا وَلْیَصْفَحُوا ۗ أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ یَغْفِرَ اللَّهُ لَکُمْ” ("اور انہیں چاہیے کہ معاف کر دیں اور درگزر سے کام لیں۔ کیا تم یہ پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہیں بخش دے؟”)

قرآنی نقطۂ نظر سے عفو و درگزر نہ صرف انسان کے باطن کو سکون عطا کرتا ہے بلکہ رحمتِ الٰہی کے حصول کا بھی ذریعہ بنتا ہے۔

سیرۂ معصومین علیہم السلام میں بھی عفو و درگزر اخلاقِ نبوی و علوی کی بلند ترین جلوہ گاہ ہے۔

رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتحِ مکہ کے موقع پر "آج رحمت کا دن ہے” کا اعلان کرتے ہوئے اپنے سخت ترین دشمنوں کو بھی معاف فرما دیا۔

یہی عظیم کردار امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام اور دیگر ائمۂ اہلِ بیت علیہم السلام کی سیرت میں بھی نمایاں نظر آتا ہے، جہاں اقتدار اور انتقام کی قدرت رکھنے کے باوجود ہمیشہ عفو و درگزر کو ترجیح دی گئی۔

اہلِ بیت علیہم السلام کی احادیث میں عفو کو انسان کی حقیقی عزت، اخلاقی بلندی اور اصل کامیابی قرار دیا گیا ہے۔

اس دن کی مناسبت ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ ایک پُرسکون فرد اور ایک صحت مند، ترقی یافتہ معاشرہ اسی وقت تشکیل پاتا ہے جب کینہ، نفرت اور انتقام کی جگہ عفو، درگزر، محبت اور باہمی ہمدردی کو فروغ دیا جائے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button