مراجعِ تقلید اور شیعہ علما کی سیرت میں عزاداری کا طریقۂ کار

ابتدائی مقتل نگاری اور پیدل عزاداری کی روایت سے لے کر شعائرِ حسینی کے فروغ کے لیے میڈیا کی سرگرمیوں تک
محرم کی عزاداری شیعہ علما کے نزدیک محض ایک عوامی رسم نہیں، بلکہ عاشورا کے حقائق کی وضاحت کے لیے ایک علمی روایت اور منظم دینی نظام رہی ہے۔
فقہ و قلم کے اکابرین نے مقتل نگاری کی بنیاد رکھ کر، درسِ خارج سے قبل مجالسِ عزا منعقد کر کے، ننگے پاؤں عزاداری کے جلوسوں کی قیادت کر کے، تبلیغی اسفار انجام دے کر، اور بعد ازاں دینی سیٹلائٹ چینلز قائم کر کے، حضرت سیدالشہداء علیہ السلام کی عزاداری کو تاریخ بھر میں مذہبی شناخت کے تحفظ، بقا اور سربلندی کا مؤثر ذریعہ بنا دیا۔
آئیے، ہمارے ساتھی کی اس رپورٹ پر نظر ڈالتے ہیں، جس میں اس موضوع کا جائزہ لیا گیا ہے:
جس دن امام حسین علیہ السلام کے جسمِ اطہر کو کربلا کی سرزمین میں سپردِ خاک کیا گیا، اسی دن سے اس عظیم سانحے کا تذکرہ علما کی زبان اور قلم میں جاری ہو گیا۔
اس اہتمام کی تفصیل متعدد کتابوں میں ملتی ہے، جن کے نام علامہ شیخ آقابزرگ طہرانی نے اپنی کتاب «الذریعہ» میں درج کیے ہیں۔
مقتل نگاری کا آغاز اَصبغ بن نُباتہ اور ابو مخنف نے کیا۔
یہ علمی روایت بعد میں «لہوف» از سید بن طاؤوس، «مقتل» خوارزمی، «مثیر الأحزان» ابن نما حلی، «نفس المہموم» اور «منتہی الآمال» از شیخ عباس قمی، نیز عبدالرزاق مقرم کی تجزیاتی مقتل جیسی کتابوں کے ذریعے آگے بڑھتی رہی۔

نثری تصانیف کے ساتھ ساتھ منظوم مقتل اور حسینی شاعری بھی پروان چڑھی۔ «آتشکدہ» از نَیّر تبریزی، «آذرستان» از شیخ محمدعلی انصاری، «نغمۂ حسینی» از حکیم الٰہی قمشہای، «نغمۂ حسینی» از آیت اللہ عبدالعلی آیت اللہی، اور آیت اللہ غروی اصفہانی (کمپانی) کا دیوان اس کی نمایاں مثالیں ہیں۔
اس سوگ کی ایک اور نمایاں صورت فقہی دروس کے آغاز سے پہلے مجلسِ عزا کا انعقاد تھا۔ اس روایت کی بنیاد میرزائے شیرازی نے رکھی، جسے قم میں آیت اللہ العظمیٰ عبدالکریم حائری نے شیخ ابراہیم صاحب الزمانی کی مرثیہ خوانی کے ساتھ جاری رکھا۔
بعد ازاں، دروس کا وقت مختصر ہونے کے باعث، اس روایت کی جگہ قم، مشہد، نجف اور کربلا میں مراجعِ تقلید کے گھروں میں محرم، صفر اور ایامِ فاطمیہ کے دوران باقاعدہ مجالسِ عزا منعقد ہونے لگیں۔
کربلا کی پیدل زیارت کی روایت، جس کا آغاز سید بحرالعلوم اور شیخ انصاری کے زمانے میں ہوا اور جو آیت اللہ العظمیٰ حکیم کے دور میں اپنے عروج پر پہنچی، بعث حکومت کے خاتمے کے بعد مراجعِ تقلید، بالخصوص آیت اللہ العظمیٰ سید صادق حسینی شیرازی کی بھرپور حمایت اور مسلسل تاکید کے نتیجے میں آج اپنی بے مثال وسعت تک پہنچ چکی ہے۔
عاشورا اور ایامِ فاطمیہ میں ننگے پاؤں پیدل چلنا شعائرِ حسینی کی تعظیم کے لیے مراجعِ تقلید کی نمایاں سنت ہے۔ آیاتِ عظام میرزا جواد تبریزی، وحید خراسانی اور صافی گلپایگانی کی رہنمائی میں حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کے حرم تک یہ روایت مضبوط ہوئی، جبکہ آیت اللہ العظمیٰ سید صادق حسینی شیرازی سمیت دیگر بزرگ مراجع نے بھی اس پر خصوصی زور دیا اور خود ہمیشہ اس پر عمل کیا۔

نجفِ اشرف میں بھی آیت اللہ العظمیٰ شیخ بشیر نجفی جیسے مراجع عزاداروں کے ہمراہ پیدل چلتے ہوئے امیرالمؤمنین یا سیدالشہداء علیہما السلام کے روضۂ مبارک کی طرف روانہ ہوتے رہے ہیں۔
صحافت کے میدان میں آیت اللہ العظمیٰ سید کاظم شریعتمداری کی سرپرستی میں ادارۂ دارالتبلیغ الاسلامی نے «مکتب اسلام»، «نسل نو»، عربی مجلہ «الہادی» اور بچوں کے رسائل «پیام شادی» اور «بشائر» کے ذریعے ایک جدید صحافتی روایت قائم کی۔
موجودہ دور میں یہی ذمہ داری بصری ذرائع ابلاغ تک منتقل ہو چکی ہے، اور آیت اللہ العظمیٰ سید صادق حسینی شیرازی کی ہدایات کے مطابق آزاد دینی سیٹلائٹ چینلز کے قیام کے لیے وسیع پیمانے پر اقدامات کیے گئے ہیں۔
اس بین الاقوامی میڈیا سلسلے میں سرفہرست امام حسین علیہ السلام میڈیا گروپ ہے، جو فارسی، عربی، انگریزی، ترکی اور اردو، پانچ زبانوں میں نشریات پیش کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ درجنوں دیگر سیٹلائٹ چینلز بھی معارفِ عاشورا کی
اشاعت میں سرگرمِ عمل ہیں۔




