سعودی عرب

سعودی حکام کے شیعہ آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کے منظم اور خطرناک اقدامات

سعودی عرب کے مشرقی علاقہ میں "سرٹیفکیٹ آف کمپلائنس” (Certificate of Compliance) کے نام سے نگرانی کی مہمات اور تعمیراتی معائنوں میں شدت نے علاقہ کے شیعہ شہریوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔

مقامی حکام کے مطابق اب تک 4,563 سے زائد فیلڈ انسپکشنز انجام دی جا چکی ہیں، جن کے نتیجے میں تجارتی اور رہائشی املاک کے تقریباً 80 فیصد حصے کا معائنہ مکمل ہو چکا ہے، جبکہ بھاری جرمانوں کے اجرا کا سلسلہ بھی شروع کر دیا گیا ہے۔

ان اقدامات نے نہ صرف چھوٹے کاروباروں کو شدید معاشی مشکلات سے دوچار کیا ہے بلکہ اس خطہ کے شیعہ باشندوں پر مالی اور انتظامی دباؤ بھی بڑھا دیا ہے۔

مڈل ایسٹ نیوز کے مطابق، ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قطیف کے شیعہ مالکان کو شرعی اوقاف کی دستاویزات پیش کرنے کا پابند بنایا جا رہا ہے۔ اسی کے ساتھ وزارتِ تیل کی جانب سے صفوی اور اوجام کی شیعہ آبادیوں کو آرامکو کے تیل کے میدانوں کی توسیع کے نام پر مسمار کرنے کے منصوبے بھی سامنے آئے ہیں۔

مقامی مبصرین کے مطابق یہ اقدامات ایک منظم سرکاری منصوبے کا حصہ ہیں، جس کا مقصد شیعہ آبادی کو ان کی زمینوں سے محروم کرنا، انہیں جبری نقل مکانی پر مجبور کرنا اور ان کی اجتماعی آبادی کو منتشر کرنا ہے، تاکہ آبادیاتی ساخت میں تبدیلی لا کر اس تاریخی خطے میں شیعہ مذہبی، سماجی اور ثقافتی شناخت اور ان کی اجتماعی قوت کو کمزور کیا جا سکے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button