مالی میں علیحدگی پسند مسلح گروہوں اور شدت پسند سنی جنگجوؤں کے فوجی ٹھکانوں پر مربوط حملے، متعدد ہلاک

افریقی ملک مالی میں کئی شہروں اور فوجی اڈوں پر بیک وقت ہونے والے بڑے حملوں نے ایک بار پھر ملک میں کشیدگی کو بڑھا دیا ہے۔
مالی کی فوج نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ متعدد فوجی تنصیبات اور ایک جیل کو مربوط حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔
ان جھڑپوں میں سرکاری فورسز نے روسی افریقی کور (Africa Corps) کی معاونت سے حملہ آوروں کو پسپا کرتے ہوئے صورتحال پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا، تاہم نشانہ بنائے گئے علاقوں میں کلیئرنس آپریشن تاحال جاری ہے۔
خبر رساں ادارہ اے ایف پی (AFP) کے مطابق ان جھڑپوں میں 26 سے زائد مسلح حملہ آور ہلاک ہوئے، جبکہ مالی کی فوج کا ایک اہلکار بھی جان کی بازی ہار گیا۔
رپورٹ کے مطابق یہ حملے نسلی علیحدگی پسند گروہ اذواد لبریشن فرنٹ (Azawad Liberation Front) اور القاعدہ سے وابستہ شدت پسند سنی مسلح گروہوں کے اتحاد کی جانب سے کئے گئے۔
جہاں شدت پسند سنی گروہ مذہبی محرکات کے تحت کارروائیاں کر رہے ہیں، وہیں اذواد لبریشن فرنٹ کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی فورسز نے انفیف (Anéfis) شہر پر قبضے کے لیے آپریشن شروع کر دیا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ چند ماہ کے دوران بھی اسی اتحاد کی جانب سے کیے گئے حملوں میں مالی کے وزیرِ دفاع سمیت متعدد افراد ہلاک ہوئے تھے۔




