
غازی آباد میں منعقدہ ایک ہندو مہاپنچایت کے دوران یتی نرسنگھانند سرسوتی کے قریبی ساتھی انیل یادو نے مسلمانوں کے خلاف انتہائی اشتعال انگیز اور نفرت آمیز بیانات دیتے ہوئے ان کی ’’نام نہاد مخالفت‘‘ کو ختم کرنے جیسے مطالبات کیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہندوؤں کو خطرات لاحق ہیں اور بین المذاہب شادیوں کی مخالفت کرتے ہوئے سخت زبان استعمال کی۔
اجتماع میں یتی نرسنگھانند نے بھی خطاب کیا اور مبینہ خطرات کا حوالہ دیتے ہوئے ہندوؤں کو ’’خود کو منظم کرنے‘‘ کا مشورہ دیا۔ بعد ازاں ایک ویڈیو میں انہوں نے انیل یادو کے بیانات کی حمایت کا اظہار کیا اور متنازعہ تقابلی دعوے بھی کئے۔
رپورٹس کے مطابق دونوں شخصیات پہلے بھی نفرت انگیز تقاریر کے مقدمات میں گرفتار اور قانونی کارروائی کا سامنا کر چکی ہیں، جبکہ حالیہ بیانات پر مختلف حلقوں کی جانب سے سخت تنقید کی جا رہی ہے۔




