شیعہ مرجعیت

سیاہ لباس پہننا مطلقاً مکروہ نہیں، اس بارے میں کوئی معتبر روایت موجود نہیں : آیت اللہ العظمیٰ شیرازی

سیاہ لباس پہننا مطلقاً مکروہ نہیں، اس بارے میں کوئی معتبر روایت موجود نہیں : آیت اللہ العظمیٰ شیرازی

آیت اللہ العظمیٰ سید صادق حسینی شیرازی کی روزانہ علمی نشست جمعرات، سولہ محرم الحرام 1448ھ کو منعقد ہوئی۔

گزشتہ نشستوں کی طرح اس نشست میں بھی آپ نے حاضرینِ مجلس کے مختلف فقہی مسائل سے متعلق سوالات کے جوابات عنایت فرمائے۔

آیت اللہ العظمیٰ شیرازی نے سیاہ لباس پہننے کے حکم کے بارے میں فرمایا: سیاہ لباس پہننے کی کراہت کے بارے میں عموماً کوئی معتبر روایت موجود نہیں، لہٰذا بعض فقہاء کے نزدیک سیاہ لباس پہننا مطلقاً مکروہ نہیں۔

معظم لہ نے مزید فرمایا: لیکن فقہاء کے درمیان مشہور یہ ہے کہ لا اقتضائیات میں، سنن میں، مستحبات میں اور مکروہات میں ہمیں سند کے اعتبار سے معتبر روایت کی ضرورت نہیں ہوتی۔

آپ نے مزید تاکید کرتے ہوئے فرمایا: کیونکہ ہشام کی صحیح روایات میں امام صادق علیہ السلام سے وارد ہے کہ لا اقتضائیات میں اور غیر واجب و حرام امور میں یہ روایات معتبر ہیں، جن میں سے ایک سیاہ لباس پہننا بھی ہے۔

آیت اللہ العظمیٰ شیرازی نے مزید فرمایا: سیاہ لباس کی کراہت سے متعلق روایات میں سے ایک بھی روایت صحیح نہیں، اور یہ تمام روایات یا تو مراسیل ہیں یا ان کی سند معتبر نہیں۔

معظم لہ نے ماہ محرم و صفر میں امام حسین علیہ السلام کے لیے سیاہ لباس پہننے کے بارے میں فرمایا: اگر اس قول کے مطابق بھی دیکھا جائے جو سیاہ لباس پہننے کو مکروہ سمجھتا ہے، تب بھی امام حسین علیہ السلام اور اہل بیت علیہم السلام کے لیے، چونکہ یہ شعار و شعائر کا درجہ رکھتا ہے، نہ صرف مکروہ نہیں بلکہ مستحب ہے.

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button