خبریں

پرامن جوہری ترقی کی جانب ملائیشیا کا اہم قدم؛قومی پالیسی 2030 کی تیاری

ملائیشیا نے کئی دہائیوں پر محیط تحقیقی تجربے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جوہری ٹیکنالوجی کے پرامن استعمال اور تجارتی فروغ کی سمت اہم پیش رفت کی ہے۔

ملک نے تحقیقی ری ایکٹر "تریگا پوسپاتی” کو مرکزِ نگاہ بناتے ہوئے اپنے وژن کے تحت وسیع بنیادی ڈھانچہ قائم کیا ہے، جس کا مقصد جوہری بجلی پیدا کیے بغیر مقامی سطح پر جدید آلات کی تیاری، ٹیکنالوجی کی خودکفالت اور عوامی فلاح و بہبود کو فروغ دینا ہے۔

خبر رساں ادارہ الجزیرہ کے مطابق، اس قومی حکمتِ عملی میں طب، زراعت، صنعت، ماحولیات سمیت چھ اہم شعبوں کو ترجیح دی گئی ہے۔

ملائیشیا نے شعاع ریزی (Irradiation) کی جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے چاول سمیت 30 سے زائد ایسی زرعی اقسام تیار کی ہیں جو مختلف موسمی اور زرعی چیلنجز کے مقابلے میں زیادہ مزاحمت رکھتی ہیں۔

اسی طرح ملک بھر میں جوہری طب (Nuclear Medicine) اور ریڈیوتھراپی کے درجنوں مراکز کے قیام سے نظامِ صحت میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، کوالالمپور کا ہدف ہے کہ سال 2030 تک جوہری شعبے سے متعلق مصنوعات اور خدمات کی برآمدات کو بڑھا کر 2.4 ارب رنگٹ (تقریباً 600 ملین امریکی ڈالر) تک پہنچایا جائے اور عالمی منڈی میں اپنی موجودگی کو مزید مضبوط بنایا جائے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button