ہندوستان

گجرات کے کچھ میں مساجد، مکانات اور دکانوں سمیت 30 تعمیرات مسمار، قانونی کارروائی پر سوالات

بھارت کی ریاست گجرات کے ضلع کچھ میں انسدادِ تجاوزات مہم کے دوران مساجد، مزارات، دکانوں اور رہائشی مکانات سمیت تقریباً 30 تعمیرات مسمار کر دی گئیں۔ متاثرہ افراد اور مقامی مسلم تنظیموں نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ کارروائیاں متعدد مقامات پر پیشگی نوٹس اور قانونی طریقۂ کار کی پابندی کے بغیر انجام دی گئیں۔

جمعیۃ علماء ہند کے حقائق معلوم کرنے والے وفد نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کر کے متاثرین سے ملاقات کی اور واقعے کی تحقیقات کا آغاز کیا ہے۔ تنظیم کے مطابق، مسمار کی گئی تعمیرات میں مذہبی مقامات، تجارتی عمارتیں اور رہائشی مکانات شامل ہیں، جبکہ احتجاج کے دوران متعدد مسلم نوجوانوں کی گرفتاری کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔

دوسری جانب ضلعی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائیاں ریاستی حکومت کی انسدادِ تجاوزات مہم اور سکیورٹی تقاضوں کے تحت کی گئی ہیں۔ بعض متاثرین نے اس کارروائی کو عدالت میں چیلنج کیا ہے، جبکہ مقامی مسلم تنظیموں نے غیر جانبدارانہ تحقیقات، ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی، متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ اور بلڈوزر کارروائیوں پر فوری روک کا مطالبہ کیا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button