افغانستان پر مبینہ پاکستانی فضائی حملوں کی شدید مذمت؛ انسانی حقوق کی تنظیم "رواداری” نے انہیں جنگی جرم قرار دے دیا
افغانستان پر مبینہ پاکستانی فضائی حملوں کی شدید مذمت؛ انسانی حقوق کی تنظیم "رواداری” نے انہیں جنگی جرم قرار دے دیا
کابل: افغانستان کی انسانی حقوق کی تنظیم رواداری نے ایک بیان میں افغانستان کے صوبوں پکتیا، پکتیکا اور کنڑ کے رہائشی علاقوں پر مبینہ پاکستانی میزائل اور فضائی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی انسانی قوانین کی سنگین خلاف ورزی اور ممکنہ جنگی جرم قرار دیا ہے۔
تنظیم کے مطابق ان حملوں میں 28 غیر فوجی شہری جاں بحق جبکہ خواتین اور بچوں سمیت 176 افراد زخمی ہوئے۔
بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ صوبہ پکتیا میں بمباری کی دوسری لہر اُس وقت کی گئی جب مقامی افراد ملبے تلے دبے زخمیوں کو نکالنے اور امدادی سرگرمیوں میں مصروف تھے، جسے تنظیم نے غیر انسانی اقدام قرار دیا۔
افغان انسانی حقوق کے ذرائع پر مشتمل خبر رساں ادارہ آوازہ کے مطابق، رواداری کا کہنا ہے کہ شہری آبادی کو دانستہ نشانہ بنانا جنیوا کنونشنز اور بین الاقوامی انسانی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے اور یہ جنگی جرم کے زمرے میں آتا ہے۔
تنظیم نے عالمی برادری، اقوامِ متحدہ اور متعلقہ بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ ان مبینہ حملوں کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں، شواہد محفوظ کئے جائیں اور ذمہ دار افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لئے مؤثر اقدامات کئے جائیں۔




