عراقماتمی انجمنیں اور حسینی شعائرمقدس مقامات اور روضے

امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے تیسرے روز قبیلۂ بنی اسد کا عظیم ماتمی جلوس

13 محرم الحرام کے موقع پر، حضرت امام حسین علیہ السلام اور دیگر شہدائے کربلا کے اجسادِ مطہر کی تدفین کی یاد میں قبیلۂ بنی اسد کی تاریخی اور روایتی عزاداری نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ شہرِ مقدس کربلا میں منعقد ہوئی۔

اس عظیم الشان عزائی پروگرام میں ہزاروں کی تعداد میں عزادار خواتین و حضرات نے شرکت کی۔ جلوس کے آغاز میں خواتین کا عظیم قافلہ، سنہ 61 ہجری میں قبیلۂ بنی اسد کی خواتین کی بے مثال قربانیوں کی یاد تازہ کرتے ہوئے آگے آگے چل رہا تھا، جبکہ سفید لباس میں ملبوس مرد بیلچے، کدالیں اور بوریاں اٹھائے بین الحرمین میں داخل ہوئے اور حضرت امام سجاد علیہ السلام کی رہنمائی میں شہدائے کربلا کی تدفین کے تاریخی منظر کی علامتی بازآفرینی کرتے ہوئے عزاداری برپا کی۔

اس حوالے سے ہمارے نمائندے کی رپورٹ ملاحظہ فرمائیے:

13 محرم الحرام، یعنی سانحۂ عاشورا کے تیسرے دن، شہرِ مقدس کربلا اور بین الحرمین شریفین ایک بار پھر قبیلۂ بنی اسد کے قدیم اور درد انگیز ماتمی جلوس کے گواہ بنے۔

یہ تاریخی روایت سنہ 61 ہجری میں بیدار ہونے والے ضمیروں اور وفاداری کی یاد تازہ کرتی ہے۔ اس موقع پر خواتین اور مردوں کی ایک عظیم تعداد نے شرکت کی تاکہ حضرت سیدالشہداء امام حسین علیہ السلام اور آپؑ کے باوفا ساتھیوں کے پاکیزہ اور ٹکڑے ٹکڑے کیے گئے اجسادِ مطہر کی تدفین کے عظیم واقعے کو عملی طور پر پیش کیا جا سکے۔

قبیلۂ بنی اسد عرب کے قدیم، بہادر اور معروف قبائل میں شمار ہوتا ہے، جو اسد بن خزیمہ بن مدرکہ کی نسل سے تعلق رکھتا ہے۔

یہ قبیلہ 19 ہجری میں سرزمینِ حجاز سے عراق ہجرت کر آیا اور کوفہ، بصرہ اور غاضریہ (کربلا کے نواحی علاقے) میں آباد ہوا۔

اس قبیلے کا سب سے بڑا تاریخی اعزاز یہ ہے کہ واقعۂ عاشورا کے بعد انہیں حضرت امام حسین علیہ السلام اور دیگر شہدائے کربلا کے اجسادِ مطہر کی تدفین کی سعادت نصیب ہوئی، جس نے ان کا نام تاریخِ تشیع میں ہمیشہ کے لیے امر کر دیا۔

سانحۂ کربلا کے بعد عمر بن سعد نے 11 محرم کو اپنی فوج کے مقتولین کو دفن کر دیا، لیکن حضرت امام حسین علیہ السلام اور آپؑ کے اصحابِ باوفا کے اجسادِ مطہر میدانِ کربلا میں بے گوروکفن چھوڑ دیے گئے۔

یزیدی حکومت کے سخت جبر اور خوف کے باعث کسی کو بھی مقتل کے قریب جانے کی ہمت نہ تھی۔

تین دن بعد، کربلا کے نواح میں آباد قبیلۂ بنی اسد کی خواتین کو اس المناک واقعے کی اطلاع ملی۔

جب انہوں نے شہداء کے بے کفن اجساد کو میدان میں پڑا دیکھا تو ان کے دل غم سے بھر گئے۔ انہوں نے اپنے مردوں کو ملامت کرتے ہوئے شہداء کی تدفین کے لیے آمادہ کیا۔ ابتدا میں خود خواتین بیلچے اور کدالیں اٹھا کر مقتل کی طرف روانہ ہوئیں۔ خواتین کے اس عظیم اقدام نے مردوں کی غیرت اور دینی حمیت کو بیدار کیا اور وہ بھی تدفینِ شہداء کے لیے میدانِ کربلا پہنچ گئے۔
اجسادِ مطہر کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے کے باعث قبیلۂ بنی اسد کے افراد شہداء کی شناخت کرنے سے قاصر تھے۔

اسی موقع پر حضرت امام زین العابدین امام سجاد علیہ السلام، اس عقیدے کے مطابق کہ "امام کی تدفین صرف امام ہی انجام دیتا ہے”، اللہ تعالیٰ کے اذن سے زندانِ کوفہ سے کربلا تشریف لائے۔

آپؑ نے گمنام انداز میں ایک ایک شہید کی شناخت کرائی اور بنی اسد کی مدد سے حضرت امام حسین علیہ السلام کو موجودہ روضۂ مبارک کے مقام پر، حضرت علی اکبر علیہ السلام کو آپؑ کے قدموں کی جانب، جبکہ دیگر شہداء کو اجتماعی قبر میں سپردِ خاک فرمایا۔

تدفین مکمل ہونے کے بعد امام سجاد علیہ السلام نے اپنا تعارف کرایا۔ اسی دن سے قبیلۂ بنی اسد کو شیعہ مسلمانوں کے درمیان خصوصی احترام حاصل ہو گیا۔

آج بھی اسی تاریخی واقعہ کی یاد میں کربلا میں ایک عظیم الشان ماتمی جلوس نکالا جاتا ہے۔

اس جلوس کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ خواتین صفِ اول میں چلتی ہیں، تاکہ قبیلۂ بنی اسد کی خواتین کے اس تاریخی کردار کو زندہ رکھا جا سکے جنہوں نے اپنے مردوں کے ضمیر کو بیدار کیا تھا۔

جلوس کے شرکاء سفید لمبے لباس زیب تن کرتے ہیں اور بیلچے، کدالیں، کھجور کے پتوں سے بنی ٹوکریاں، کفن اور بوریاں اٹھائے مقتل کی جانب علامتی انداز میں پیش قدمی کرتے ہیں، تاکہ وفاداری، ایثار اور شعائرِ حسینی کے تحفظ کا پیغام پوری دنیا تک پہنچایا جا سکے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button