رام پور: پانچ ممالک کے سفارت کاروں نے امام باڑہ خاص باغ میں محرم کی عزاداری اور چھریوں کے ماتم کا مشاہدہ کیا

رام پور: 9 محرم الحرام کی شب امام باڑہ خاص باغ میں منعقد ہونے والی روایتی مجلسِ عزا کے بعد ہونے والے چھریوں اور زنجیروں کے ماتم کا اس بار دنیا کے پانچ ممالک کے سفارت کار بھی عینی شاہد بنے۔ دہائیوں سے جاری اس روایت کو پہلی بار قریب سے دیکھنے والے سفارت کار ماتمی عزاداروں کے جذبۂ عقیدت اور خون آلود مناظر کو دیکھ کر حیران رہ گئے اور انہوں نے اس موقع کی ویڈیوز بھی اپنے موبائل فونز میں محفوظ کیں۔
سابق وزیر نواب کاظم علی خان المعروف نوید میاں کی دعوت پر رومانیہ، چلی، ازبکستان، ایسٹونیا اور آئرلینڈ کے سفارت کار رام پور پہنچے۔ انہوں نے دیر شب امام باڑہ خاص باغ میں مجلسِ عزا اور عزاداری میں شرکت کی۔
نوید میاں نے وفد کو ماہِ محرم کی تاریخی، دینی اور انسانی اہمیت سے آگاہ کرتے ہوئے واقعۂ کربلا اور حضرت امام حسین علیہ السلام کی عظیم قربانی کا پس منظر بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ حضرت امام حسین علیہ السلام نے ظلم، جبر اور ناانصافی کے سامنے سر نہ جھکا کر دنیا کو حق، عدل اور انسانی وقار کا درس دیا۔ ان کی حیاتِ مبارکہ آج بھی انسانیت کو حق پر ثابت قدم رہنے، ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے اور اصولوں پر ڈٹے رہنے کی تلقین کرتی ہے۔
پہلی مرتبہ اس انداز کی عزاداری کا مشاہدہ کرنے والے سفارت کاروں نے اسے اپنی زندگی کا ایک منفرد اور یادگار تجربہ قرار دیا۔
اس موقع پر سابق رکنِ پارلیمان بیگم نوربانو، متولیِ اوقاف نوابزادہ حیدر علی خان (حمزہ میاں)، بیگم یاسین علی خان (شاہ بانو)، کاشف خان، سہیل میاں، شباب حسین اور دیگر معزز شخصیات بھی موجود تھیں۔




