آستانِ مقدس حسینی کا عاشورا کے لیے وسیع طبی انتظام؛ ۴۳ طبی مراکز میں ۵۵۰ امدادکار تعینات
آستانِ مقدس حسینی کا عاشورا کے لیے وسیع طبی انتظام؛ ۴۳ طبی مراکز میں ۵۵۰ امدادکار تعینات

آستانِ مقدس حسینی علیہ السلام کے شعبۂ ترقی و اجتماعی بہبودِ نوجوانان نے عاشورائے حسینی کے پُرعظمت ایام میں زائرینِ کرام کی صحت و سلامتی کی ضمانت کے لیے اپنے طبی امدادی منصوبے کو مکمل طور پر آمادہ و فعال قرار دیا ہے۔
شیعہ نیوز ایجنسی کے مطابق اس منصوبے کے تحت، طبی ہنگامی امداد اور اضطراری انخلاء کی تربیت یافتہ رضاکارانہ نیروں میں سے ۵۵۰ سیّار امدادکار صحنِ شریف حسینی کے اندرونی اور بیرونی احاطے میں قائم ۴۳ طبی مراکز پر تعینات کیے گئے ہیں تاکہ زائرین کی فوری دیکھ بھال ہو سکے۔
اس شعبے کے سربراہ محمد محسن النصراوی نے تفصیلات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ کمیشنِ ابتدائی طبی امداد نے عزاداری کے اوجِ ایام کے لیے ایک دقیق منصوبہ مرتب کیا ہے۔ تاسوعائے حسینی کے روز ۲۱ سیّار امدادی مراکز فعال رہیں گے، جن میں سے ۹ حرم کے اندر اور ۱۲ بیرونی حصوں میں قائم ہوں گے۔ ان ٹیموں کی ذمہ داری ابتدائی طبی امداد فراہم کرنا اور ضرورت پڑنے پر مریضوں کو فوری طور پر بیمارستانِ تخصصی سفیرِ امام حسین علیہ السلام، بیمارستانِ میدانی صحنِ حضرت زینب سلام اللہ علیہا، یا مرکزِ اورژانسِ خیابانِ السدرہ منتقل کرنا ہے۔
دسویں محرم کو، لاکھوں عزاداروں کی ”ہرولۂ طویریج” کے آغاز کے ساتھ ہی، مزید ۲۲ سیّار مراکز (۱۱ اندر اور ۱۱ راستوں پر) تعینات کر کے آمادگی کو اپنے عروج پر پہنچا دیا جائے گا۔
یہ تمام انتظامات شہرِ مقدس کربلا میں کروڑوں زائرین کو بہترین طبی نگہداشت فراہم کرنے اور فوری طبی مداخلت کی ضمانت کے لیے کیے گئے ہیں۔




