افغانستان

کابل میں مذہبی پابندیوں کی نئی لہر؛ تاسوعا اور عاشورا سے قبل عزاداری پر قدغنیں

تاسوعا اور عاشورائے حسینی کی آمد سے قبل افغانستان کے دارالحکومت کابل سے عزاداروں کی گرفتاری اور مجالسِ عزا کے انعقاد پر پابندیوں سے متعلق اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق کابل کے مغربی علاقوں، خصوصاً شیعہ اکثریتی علاقے دشتِ برچی میں، تاسوعا سے قبل کی راتوں کے دوران سکیورٹی اہلکاروں نے بعض عزاداری کے جلوسوں اور ماتمی دستوں کو روک دیا اور متعدد عزاداروں کو حراست میں لے لیا۔

مقامی ذرائع کے مطابق حکام کی جانب سے ان اقدامات کی وجہ ’’متعلقہ اداروں سے پیشگی اجازت نہ لینا‘‘ اور ’’سکیورٹی خدشات‘‘ بیان کی گئی ہے۔

عوامی ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ بعض گھروں، امام بارگاہوں اور تکیہ خانوں میں منعقد ہونے والی مجالسِ روضہ خوانی اور عزاداری کی محافل کو ’’بغیر اجازت اجتماعات‘‘ کے الزام میں منسوخ کر دیا گیا یا انہیں مکمل ہونے سے پہلے روک دیا گیا۔

دوسری جانب دینی علماء، ذاکرین اور مذہبی انجمنوں کے ذمہ داران کا مؤقف ہے کہ انہوں نے مجالس اور عزاداری کے پروگراموں کے انعقاد کے لئے متعلقہ حکام کو باقاعدہ درخواستیں جمع کرائی تھیں، تاہم انہیں اب تک کوئی واضح جواب موصول نہیں ہوا۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button