عراق

عراق میں محرم کی "ہوسہ خوانی”؛ غیرتِ حسینی، قبائلی ثقافت اور مزاحمت کی ولولہ انگیز زبان

عراق میں محرم کی "ہوسہ خوانی”؛ غیرتِ حسینی، قبائلی ثقافت اور مزاحمت کی ولولہ انگیز زبان

ماہِ محرم الحرام کی آمد اور عراق کے شہروں کے سیاہ پوش ہونے کے ساتھ ہی "ہوسہ خوانی” کی قدیم اور پرجوش روایت ایک بار پھر زندہ ہو جاتی ہے۔

یہ منفرد عوامی رسم عراقی سوگواری کی نمایاں ترین علامتوں میں شمار ہوتی ہے، جو قبائلی ثقافت اور شیعہ عقائد کے حسین امتزاج کے ذریعہ پیغامِ عاشورا کو عوامی زبان میں پیش کرتی ہے۔

آج یہ روایت استقامت، غیرتِ حسینی اور مزاحمت کی علامت بن چکی ہے۔

حضرت سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کے ایامِ عزا کے آغاز کے ساتھ ہی عراق کے مختلف شہروں، بالخصوص نجف، کربلا، بصرہ اور ناصریہ میں "ہوسہ خوانی” کی گونج سنائی دیتی ہے۔

جنوبی عراق اور فراتِ اوسط کے علاقوں میں رائج یہ قدیم عوامی روایت دراصل اجتماعی اور جوشیلے نعروں کی ایک شکل تھی، جسے عرب قبائل جنگ کے مواقع پر اپنی رائے کے اظہار، شجاعت کی ترغیب اور افراد کو یکجا کرنے کے لیے استعمال کرتے تھے۔

وقت گزرنے کے ساتھ یہ قبائلی روایت ثقافتِ عاشورا سے ہم آہنگ ہو گئی اور کربلا سے تجدیدِ عہد، ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے اور حسینی پیغام کو عام کرنے کا مؤثر ذریعہ بن گئی۔

اس رسم میں عزادار بغیر کسی خاص تکلف کے دائرے کی شکل میں جمع ہوتے ہیں۔ پھر ایک شاعر یا نوحہ خواں بلند آواز میں اہلِ بیت علیہم السلام کے مصائب، حضرت عباس علیہ السلام کی وفاداری یا حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے صبر و استقامت پر مشتمل مختصر اور مترنم اشعار پڑھتا ہے۔

شعر کے اختتام سے قبل حاضرین ایک ساتھ بلند آواز میں "ہاہ” کا نعرہ لگاتے ہوئے آخری مصرع دہراتے ہیں، جس سے مجلس کا جوش و ولولہ مزید بڑھ جاتا ہے۔

یہ اشعار، جو عوامی احساسات اور قبائلی روایات کی عکاسی کرتے ہیں، وفاداری، غیرت، شجاعت اور اہلِ بیت علیہم السلام سے محبت کے جذبات کو نمایاں کرتے ہیں۔

اس رسم کی سادگی ہی اس کی مقبولیت کا راز ہے، جہاں عمر، طبقے یا کسی مخصوص لباس کی قید کے بغیر ہر شخص شریک ہو سکتا ہے۔

ہوسہ خوانی اگرچہ بنیادی طور پر ایک مذہبی اور ثقافتی روایت ہے، تاہم گزشتہ چند دہائیوں میں یہ عراق میں آمریت اور جبر کے خلاف مزاحمت کی علامت بھی بن گئی۔ خصوصاً صدام حسین کے دورِ حکومت میں اور بعد ازاں شدت پسند گروہوں کے خلاف عوامی مزاحمت کے دوران اس روایت نے نمایاں کردار ادا کیا۔

عراقی عوام نے شہداء کی تشییع، عوامی اجتماعات اور مختلف قومی و مذہبی مواقع پر "ہوسہ” کو شجاعت، قربانی اور نہضتِ حسینی سے وابستگی کے اظہار کے طور پر استعمال کیا ہے۔

ماہرینِ ثقافت کے مطابق "ہوسہ خوانی” مقامی روایات اور دینی عقائد کے باہمی امتزاج کی ایک منفرد مثال ہے، جس نے نہ صرف عراق کے شیعہ معاشرے کی ثقافتی شناخت کو محفوظ رکھا ہے بلکہ ایک زندہ اور مؤثر زبان کے طور پر ظلم، ناانصافی اور استبداد کے خلاف عوامی احساسات اور اجتماعی مؤقف کی ترجمانی بھی کی ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button