تاریخ اسلام

7 محرم الحرام: فرات کی بندش اور حضرت مسلم بن عوسجہ علیہ السلام کی وفاداری

7 محرم الحرام کو میدان کربلا میں امام حسین علیہ السلام کی مظلومیت کا ایک اور دردناک باب رقم ہوا۔ اس دن عبیداللہ بن زیاد نے عمر بن سعد کے نام ایک سخت حکم نامہ روانہ کیا، جس میں اسے حکم دیا کہ خیام حسینی اور دریائے فرات کے درمیان مکمل رکاوٹ کھڑی کر دی جائے، تاکہ اہلِ بیتِ رسولؐ اور ان کے جان نثاروں کو پانی کا ایک قطرہ بھی میسر نہ ہو سکے۔

چنانچہ عمر بن سعد نے عمرو بن حجاج کی قیادت میں ایک دستہ فرات پر متعین کر دیا اور پانی کا راستہ مکمل طور پر بند کر دیا گیا۔ اسی دوران قبیلۂ بجیلہ کے ایک شخص، عبداللہ بن حصین اَزدی نے نہایت گستاخانہ انداز میں آواز دی کہ امام حسین علیہ السلام اب پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں پی سکیں گے، یہاں تک کہ پیاس سے جان دے دیں گے۔ امام حسین علیہ السلام نے اس کی سنگ دلی اور جسارت پر بارگاہِ الٰہی میں دعا کرتے ہوئے اسے پیاس کے عذاب میں مبتلا کرنے کی دعا فرمائی۔

ساتویں محرم تک کربلا کے سب سے دردناک اور فیصلہ کن لمحات قریب آ چکے تھے۔ حضرت مسلم بن عوسجہ علیہ السلام کی آمد نے اصحابِ امامؑ کے دلوں میں خوشی، اطمینان اور حوصلے کی نئی روح پھونک دی تھی۔ آپ شب کی تاریکی میں کوفہ سے نکل کر کربلا پہنچے اور امام حسین علیہ السلام کے قافلے سے جا ملے۔ آپ کوفہ کی ممتاز، باوقار اور بااثر شخصیات میں شمار ہوتے تھے اور اہلِ بیت علیہم السلام کے مخلص، جان نثار اور ثابت قدم حامی و شیعہ تھے۔

جب حضرت مسلم بن عقیل علیہ السلام کوفہ تشریف لائے تو حضرت مسلم بن عوسجہ علیہ السلام نے ان کی بھرپور نصرت کی، بیعت لیتے، اسلحہ خریدنے کا انتظام کرتے اور قبائلِ مذحج و بنی اسد کے مجاہدین کی قیادت کرتے تھے۔ کوفیوں کی بے وفائی کے بعد آپ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ رات کی تاریکی میں کوفہ سے روانہ ہوئے اور کربلا پہنچ کر امام حسین علیہ السلام کے لشکر میں شامل ہوگئے۔

روزِ عاشورا عمرو بن حجاج کی قیادت میں فرات کی جانب سے حملہ ہوا، جس کا مقابلہ حضرت زہیر بن قین علیہ السلام کی کمان میں ہوا۔ اس معرکہ میں حضرت مسلم بن عوسجہ علیہ السلام نے بے مثال شجاعت کا مظاہرہ کیا اور دشمن کے تقریباً پچاس جنگجوؤں کو ہلاک کیا۔ کچھ دیر بعد آپ شدید زخمی حالت میں خاکِ کربلا پر پڑے پائے گئے۔

امام حسین علیہ السلام اور جناب حبیب بن مظاہر علیہ السلام فوراً ان کے سرہانے تشریف لائے۔ امام حسین علیہ السلام نے رحمت کی دعا فرمائی اور آیتِ مبارکہ تلاوت فرمائی۔ جناب حبیب بن مظاہر علیہ السلام نے جنت کی بشارت دی اور وصیت طلب کی۔ حضرت مسلم بن عوسجہ علیہ السلام نے امام حسین علیہ السلام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان کی نصرت اور حفاظت کی وصیت کی۔

پیغامِ کربلا کے اہم اسباق: حق کا ساتھ قربانی کا تقاضہ کرتا ہے، امامِ حق کی معرفت نجات کا راستہ ہے، بصیرت مؤمن کا سب سے بڑا سرمایہ ہے، وفاداری کا معیار اصول ہیں مفادات نہیں، نوجوانوں کے لئے عظیم نمونۂ عمل، ظلم کے خلاف خاموشی بھی جرم ہے، اور آخری سانس تک ذمہ داری کا احساس۔ کربلا ایک زندہ اور دائمی درسگاہ ہے، اور حضرت مسلم بن عوسجہ علیہ السلام کی زندگی حق کی پہچان، نصرت اور وفا کا ابدی سرمایہ ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button