افغانستانخبریں

وطن واپسی کی غیر معمولی لہر؛ گزشتہ عیسوی سال تقریباً 30 لاکھ افغان مہاجرین اپنے ملک واپس لوٹ گئے

اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین (UNHCR) کی تازہ رپورٹ "افغانوں کی واپسی 2025” کے مطابق افغانستان حالیہ برسوں میں مہاجرین کی واپسی کی سب سے بڑی لہر کا سامنا کر رہا ہے۔

بی بی سی اردو کے تجزیہ کے مطابق تقریباً 29 لاکھ افغان شہری معاشی دباؤ، قانونی سختیوں اور ملک بدری کی پالیسیوں کے باعث ہمسایہ ممالک، بالخصوص ایران اور پاکستان، سے افغانستان واپس لوٹے یا واپس بھیجے گئے۔

رپورٹ کے مطابق ان میں سے بہت سے افراد ایسے تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی میزبان ممالک میں گزاری تھی، جبکہ بعض وہیں پیدا ہوئے اور پروان چڑھے تھے۔

رہائشی و اقامتی پالیسیوں میں اچانک تبدیلیاں، گرفتاریوں میں اضافہ اور ہمسایہ ممالک میں معاشی حالات کی خرابی اس بڑے پیمانے پر واپسی کی اہم وجوہات قرار دی گئی ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں مارچ 2025 سے غیر قانونی غیر ملکیوں کی واپسی کے منصوبہ پر دوبارہ عمل درآمد کے نتیجے میں تقریباً 10 لاکھ افغان شہری افغانستان واپس گئے ہیں۔

اسی دوران ایران میں بھی غیر دستاویزی مہاجرین کی بے دخلی کا عمل تیز کر دیا گیا، جس کے باعث وہاں سے واپس آنے والوں کی تعداد 19 لاکھ تک پہنچ گئی۔

اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ مہاجرین کی اس بڑی تعداد کی واپسی نے افغانستان کی محدود انتظامی اور امدادی صلاحیتوں پر شدید دباؤ ڈال دیا ہے، جس کے نتیجے میں واپس آنے والوں کی آبادکاری، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور انسانی امداد کے شعبوں کو سنگین چیلنجز درپیش ہیں۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button