6 محرم الحرام: جب کربلا میں حق تنہا تھا مگر اللہ اس کا مددگار تھا

6 محرم الحرام تاریخِ کربلا کا وہ مرحلہ ہے جب ظاہری نگاہوں سے دیکھا جائے تو باطل کی قوتیں اپنے عروج پر دکھائی دیتی ہیں، لیکن نگاہِ بصیرت سے یہی دن حق کی معنوی سربلندی اور ظلم کی اخلاقی شکست کے آغاز کا دن ہے۔ کربلا کے میدان میں تلواروں کی جھنکار ابھی پوری طرح سنائی نہیں دیتی، مگر دلوں کے معرکے شروع ہو چکے ہوتے ہیں۔ ضمیروں کی عدالت قائم ہو چکی ہوتی ہے اور وفاداریوں کا امتحان شروع ہو جاتا ہے۔
کربلا کا سفر زمین پر چلنے والا عام قافلہ نہیں تھا بلکہ خدا کی رضا اور انسانی عظمت کی معراج کی طرف بڑھنے والا عرفانی سفر تھا۔ امام حسین علیہ السلام جانتے تھے کہ دشمن کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، پانی پر پہرے بٹھائے جا رہے ہیں، مگر آپؑ کے چہرۂ مبارک پر اضطراب نہیں بلکہ سکون اور توکلِ الٰہی کی روشنی نمایاں تھی۔ یہ اطمینان اس یقین سے جنم لیتا ہے کہ جو خدا کے لئے قیام کرتا ہے، وہ کبھی تنہا نہیں ہوتا۔
6 محرم کا سب سے نمایاں کردار حضرت حبیب بن مظاہر علیہ السلام ہیں۔ عمر کے آخری حصے میں تھے، مگر دل جوان اور ولایتِ اہلِ بیت علیہم السلام سے محبت خون میں رچی بسی تھی۔ جب وہ قبیلۂ بنی اسد کی طرف روانہ ہوئے تو درحقیقت تاریخ کے سوئے ہوئے ضمیر کو بیدار کرنے نکلے تھے۔ ان کی صدا یہ تھی کہ رسولِ خدا کے نواسے کی نصرت کے لئے کوئی لبیک کہے۔ یہ صرف ایک قبیلے سے خطاب نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لئے دائمی سوال تھا، جس کا جواب ہر دور کا انسان اپنے کردار سے دیتا ہے۔
کوفہ، 6 محرم کے مطالعے میں محض جغرافیائی شہر نہیں رہتا بلکہ ایک نفسیاتی کیفیت بن جاتا ہے۔ کوفہ وہ مقام ہے جہاں لوگوں نے حق کو پہچانا مگر ساتھ نہ دیا، خطوط لکھے مگر وقتِ امتحان تنہا چھوڑ دیا، سچائی جانی مگر مصلحت کو ترجیح دی۔ اسی لئے یزید ظلم و استبداد کی علامت بنا اور کوفہ بے وفائی کی مثال بنا۔ کربلا یہ درس دیتی ہے کہ انسان خاموش تماشائی بن کر بھی ظلم کے جرم میں شریک ہو جاتا ہے۔
بازارِ آہنگران میں تلواریں تیز کی جا رہی تھیں، نیزے درست کئے جا رہے تھے۔ تاریخ سوال اٹھاتی ہے کہ کیا صرف لوہے کی دھار تیز ہو رہی تھی یا انسانوں کے ضمیر بھی کند ہو رہے تھے؟ ہر دور میں ایسے بازار آباد رہے ہیں—کبھی جھوٹ کے لئے قلم، کبھی فتنہ کے لئے زبانیں، کبھی گمراہی کے لئے ذرائع ابلاغ۔ کربلا کا پیغام ہے کہ ہر انسان کو طے کرنا ہوگا کہ وہ حق کے بازار کا حصہ ہے یا باطل کے۔
ظاہری نگاہ سے امام حسین علیہ السلام کے امکانات محدود ہوتے جا رہے تھے، مدد کے راستے بند تھے، دشمن کے لشکر بڑھ رہے تھے، مگر اہلِ معرفت جانتے ہیں کہ خدا کی راہ میں کامیابی کا معیار ظاہری غلبہ نہیں بلکہ رضائے الٰہی کا حصول ہے۔ امام حسین علیہ السلام کی نگاہ صرف میدانِ جنگ پر نہیں بلکہ رضائے خدا پر مرکوز تھی۔
ابن زیاد کے پاس فوج، خزانہ اور اختیارات تھے، مگر وہ مسلسل خطوط بھیج رہا تھا اور جاسوس مقرر کر رہا تھا، کیونکہ باطل ظاہری قوت کے باوجود اندر سے خوف زدہ ہوتا ہے۔ فرعون کو موسیٰ علیہ السلام سے، نمرود کو ابراہیم علیہ السلام سے اور یزید کو امام حسین علیہ السلام سے خوف تھا، کیونکہ باطل ہمیشہ حق کی روشنی سے خائف رہتا ہے۔
6 محرم کا پیغام ہے کہ انقلاب میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ دلوں میں جنم لیتے ہیں، جب انسان خوف کی زنجیریں توڑ دے اور خدا کی رضا ہر خواہش پر غالب آ جائے۔ آج نہ کوفہ ہے نہ ابن زیاد، مگر ان کی سوچ مختلف شکلوں میں موجود ہے، اور آج بھی حبیب بن مظاہر علیہ السلام جیسے باوفا افراد کی ضرورت ہے۔ کربلا کا پیغام صرف اشک بہانا نہیں بلکہ امام حسین علیہ السلام کے راستے کو اپنانا ہے۔ حق وقتی طور پر تنہا دکھائی دے سکتا ہے، لیکن حقیقت میں کبھی تنہا نہیں ہوتا، کیونکہ اس کے ساتھ خدا کی نصرت ہمیشہ موجود ہوتی ہے۔




