علم اور ٹیکنالوجی

فرانسیسی اسٹارٹ اپ کی جانب سے غیر انسان نما روبوٹ "اینو" کی رونمائی؛ روبوٹکس کی دنیا میں ایک منفرد پیش رفت

مصنوعی ذہانت (AI) کی بڑھتی ہوئی مسابقت اب فزیکل مشینوں اور روبوٹکس کے شعبہ تک پہنچ چکی ہے۔ اسی تناظر میں فرانسیسی روبوٹکس اسٹارٹ اپ جینیسس (Genesis)، جسے سابق گوگل چیف ایگزیکٹو ایرک شمٹ کی سرپرستی حاصل ہے، نے اپنے پہلے ہمہ مقصدی روبوٹ "اینو” (Eno) کی رونمائی کی ہے۔

یہ روبوٹ موجودہ رجحان کے برخلاف انسان نما (Humanoid) ڈیزائن کے بجائے ایک منفرد ساخت کا حامل ہے، جس سے کمپنی نے روبوٹکس کے میدان میں ایک مختلف راستہ اختیار کیا ہے۔

فرانسیسی نشریاتی ادارہ فرانس 24 کی رپورٹ کے مطابق، اینو کے پاس انسانی ٹانگوں کے بجائے پہیوں پر مشتمل ایک متحرک بنیاد (Wheeled Base) اور ایک تہہ ہونے والا عمودی ڈھانچہ موجود ہے۔ تاہم اس کے بازو اور ہاتھ انسانی ہاتھوں کی ساخت اور حرکات سے ہم آہنگ انداز میں تیار کیے گئے ہیں، تاکہ یہ مختلف نوعیت کے کام مؤثر طریقے سے انجام دے سکے۔

ماہرین کے مطابق، یہ ڈیزائن اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ صنعتی اور عملی مقاصد کے لیے روبوٹس کو لازماً انسان نما شکل دینا ضروری نہیں، بلکہ کارکردگی اور افادیت کو ترجیح دے کر بھی مؤثر نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button