تاریخ اسلام

سومِ محرم الحرام: حق و باطل کی کشمکش کا ایک فیصلہ کن دن

محرم الحرام 61 ہجری کا چاند طلوع ہوتے ہی سرزمینِ کربلا پر تاریخِ انسانیت کا وہ عظیم باب رقم ہونا شروع ہوگیا جس نے حق و باطل کے درمیان ایک واضح حدِ فاصل قائم کر دی۔ سومِ محرم الحرام انہی اہم اور فیصلہ کن دنوں میں سے ایک ہے جب یزیدی حکومت کے عزائم مزید آشکار ہوئے اور واقعۂ کربلا ایک نئے مرحلے میں داخل ہوا۔

اس دن کوفہ کے گورنر عبیداللہ بن زیاد ملعون نے امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں ایک نہایت سخت اور دھمکی آمیز خط روانہ کیا جس میں لکھا تھا کہ جب تک وہ آپؑ کو قتل نہ کر دے یا بیعت پر مجبور نہ کر لے، نہ آرام کرے گا اور نہ شکم سیر ہو کر کھانا کھائے گا۔ یہ خط یزیدی اقتدار کی اس ظالمانہ سوچ کا آئینہ دار تھا جو حق و صداقت کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے کے بجائے ظلم و جبر کے ذریعے اپنی حکومت کو دوام دینا چاہتی تھی۔ امام حسین علیہ السلام نے نہایت وقار، استغنا اور اطمینان کے ساتھ فرمایا: "اس خط کا کوئی جواب نہیں، اس کا جواب اللہ کا عذاب ہے۔” یہ مختصر مگر بامعنی جواب اس حقیقت کا اعلان تھا کہ اہلِ حق کو باطل کی دھمکیاں کبھی مرعوب نہیں کر سکتیں۔

سومِ محرم کے واقعات میں ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ امام حسین علیہ السلام سفرِ کربلا کے دوران مختلف مواقع پر حضرت یحییٰ علیہ السلام کی مظلومانہ شہادت کا ذکر فرمایا کرتے تھے۔ امام زین العابدین علیہ السلام روایت کرتے ہیں کہ ہم کسی منزل پر نہیں اترے مگر یہ کہ امام حسین علیہ السلام نے حضرت یحییٰ علیہ السلام کی شہادت کا تذکرہ فرمایا۔ دونوں مقدس ہستیوں نے باطل قوتوں کے سامنے سر جھکانے سے انکار کیا اور ان کی قربانیوں نے حق و عدالت کے چراغ کو ہمیشہ کے لیے روشن کر دیا۔

اسی دن ابن زیاد ملعون نے عمر سعد ملعون کو ایک ایسے دوراہے پر لا کھڑا کیا جہاں اسے دنیا اور آخرت میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا تھا۔ عمر سعد ملعون کو ری اور گرگان کی حکومت کا لالچ دیا گیا تھا۔ ابتدا میں اس نے تردد کا اظہار کیا، لیکن جب حکومتِ ری کا فرمان واپس لینے کی دھمکی ملی تو وہ دنیاوی اقتدار کے لالچ میں آ گیا اور چار ہزار سپاہیوں کے ساتھ کربلا کی جانب روانہ ہوگیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب تاریخ نے دیکھا کہ ایک شخص نے چند روزہ اقتدار کی خاطر فرزندِ رسولؐ کے مقابل صف آرا ہونے پر آمادگی ظاہر کی اور ہمیشہ کی بدنامی اپنے نام لکھوا لی۔

کربلا پہنچ کر عمر سعد ملعون نے قرہ بن قیس حنظلی کو امام حسین علیہ السلام کے پاس بھیجا۔ امام حسین علیہ السلام نے اسے جواب دیا کہ اہلِ کوفہ نے خطوط لکھ کر انہیں بلایا تھا، اگر اب وہ اپنی رائے بدل چکے ہیں تو آپؑ واپس لوٹنے کے لیے تیار ہیں۔ حضرت حبیب بن مظاہر علیہ السلام نے قرہ کو نصیحت کی کہ ظالموں کا ساتھ چھوڑ کر اس ہستی کی نصرت کرے جس کے وجود کے صدقے اللہ نے شرف و عزت عطا فرمائی ہے۔

عمر سعد ملعون نے یہ جواب سن کر ابن زیاد ملعون کو خط لکھا اور امام حسین علیہ السلام کی واپسی کی آمادگی سے آگاہ کیا، مگر ظلم کی یہ مشینری رکنے والی نہ تھی۔ سومِ محرم کا یہ دن گواہ بنا کہ باطل کتنا ہی طاقتور ہو، اہلِ حق کی استقامت اسے کبھی مرعوب نہیں کر سکتی۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button