ہندوستان

حیدرآباد میں "بی بی کا علم"؛ محرم کے غم کی 240 سالہ روایت

بھارت کے شہر حیدرآباد کی قدیم ترین عزاداری کی روایات میں سے ایک کے مطابق ہر سال ماہِ محرم میں ہزاروں عقیدت مند دبیرپورہ کے علاقے میں واقع "بی بی کا علم” کی زیارت کے لیے جمع ہوتے ہیں۔ یہ مقدس علم حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی یاد میں نصب کیا جاتا ہے اور اس کی تاریخ اٹھارہویں صدی عیسوی کے اواخر تک پہنچتی ہے۔

محرم الحرام کے آغاز کے ساتھ ہی دبیرپورہ کا علاقہ جنوبی ایشیا کی عظیم ترین مذہبی تقریبات میں سے ایک کا مرکز بن جاتا ہے۔ مقامی اخبار "سیاست ڈیلی” کے مطابق محرم کے پہلے دن ہزاروں افراد "علاوۂ بی بی” میں حاضر ہوتے ہیں، جہاں وہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی یاد میں نصب مقدس علم کو سلام پیش کرتے اور اپنی حاجات کے لیے دعا کرتے ہیں۔

یہ علم، جو "بی بی کا علم” کے نام سے مشہور ہے، حیدرآباد کی قدیم ترین عزاخانوں میں سے ایک میں نصب کیا جاتا ہے۔ تلنگانہ شیعہ یوتھ کانفرنس کے رکن سید حامد حسین جعفری کے مطابق مقامی روایت یہ ہے کہ اس علم میں لکڑی کا ایک مقدس ٹکڑا محفوظ ہے جو حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے غسلِ مبارک میں استعمال ہونے والے تختے کا حصہ تھا اور عبداللہ قطب شاہ کے دورِ حکومت میں کربلا سے گولکنڈہ لایا گیا تھا۔

علم کی تنصیب گاہ کے دروازے پر موجود قدیم کتبہ کے مطابق موجودہ عمارت 1784ء میں تعمیر کی گئی تھی، جبکہ علم کو محفوظ رکھنے کے لیے ایک مضبوط اور صندوق نما کمرہ بنایا گیا ہے۔

اس علم کو چھ ہیروں اور دیگر قیمتی جواہرات سے آراستہ کیا گیا ہے، جو میر عثمان علی خان کی جانب سے وقف کیے گئے تھے۔ انہیں "عزادارِ مادرِ دکن” کے لقب سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔

یومِ عاشورا، یعنی 10 محرم الحرام کو، "بی بی کا علم” ایک خصوصی اور پروقار جلوس میں نہایت احترام کے ساتھ ایک آراستہ ہاتھی پر رکھا جاتا ہے اور عزاداروں کے عظیم اجتماع کے درمیان اس کی زیارت کرائی جاتی ہے۔

یہ منفرد روایت عقیدت، تاریخی ورثے اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا و واقعۂ کربلا کی یاد سے گہرے تعلق کی علامت ہے۔ یہ تقریب نہ صرف ایک شیعہ مذہبی روایت ہے بلکہ حیدرآباد کی مشترکہ ثقافتی میراث کے طور پر بھی جانی جاتی ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button