زوالِ عقل کے علاج میں امید کی نئی کرن؛ نفسیاتی اثر رکھنے والے تجرباتی مادے سے الزائمر کے مریض کی یادداشت اور قوتِ گویائی میں حیرت انگیز بہتری
زوالِ عقل کے علاج میں امید کی نئی کرن؛ نفسیاتی اثر رکھنے والے تجرباتی مادے سے الزائمر کے مریض کی یادداشت اور قوتِ گویائی میں حیرت انگیز بہتری
الزائمر کے ایک ترقی یافتہ مرحلے میں مبتلا 80 سالہ خاتون نے تجرباتی نفسیاتی اثر رکھنے والے مادے "سائلوسائبن”(جو جادوئی کھمبی میں پایا جاتا ہے) کی ایک خوراک لینے کے بعد یادداشت، قوتِ گویائی اور رویّوں پر قابو پانے کی صلاحیت میں نمایاں بہتری کے آثار ظاہر کیے ہیں۔
یہ مریضہ، جو گفتگو کرنے کی صلاحیت تقریباً کھو چکی تھی، علاج کے بعد مکمل جملوں میں بات کرنے لگی اور ماضی کی کئی یادیں بھی دوبارہ بیان کرنے میں کامیاب ہوئی۔
روزنامہ نیو یارک پوسٹ نے سائنسی جریدے "فرنٹیئرز ان نیورو سائنس” کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ محققین نے واضح کیا ہے کہ اس پیش رفت کو الزائمر کا قطعی علاج قرار نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ مشاہدہ کی گئی بہتری عارضی تھی اور اس نے اعصابی خلیات کی تباہی کے عمل کو الٹ نہیں دیا۔
تاہم اس تجربے سے یہ اشارہ ضرور ملتا ہے کہ زوالِ عقل کے مریضوں میں دماغی صلاحیتوں کے بعض حصے مکمل طور پر ختم نہیں ہوتے، بلکہ اعصابی راستوں کو متحرک کر کے انہیں عارضی طور پر دوبارہ فعال کیا جا سکتا ہے۔




