امریکہخبریں

واشنگٹن کی جانب سے ایرانی اور افغان پناہ گزینوں کی منظم بے دخلی

مشرقِ وسطیٰ کے مہاجرین کو وسطی افریقہ منتقل کرنے کے لئے ٹرمپ انتظامیہ کی خفیہ پرواز کی تفصیلات

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت کی جانب سے تارکینِ وطن کے خلاف پالیسیوں میں غیر معمولی سختی کے بعد، بے دخل کئے گئے پناہ گزینوں کو لے جانے والا ایک طیارہ، جس میں ایران، افغانستان، ترکیہ اور جارجیا کے شہری شامل تھے، امریکہ سے روانہ ہو کر افریقی ممالک کی جانب بھیج دیا گیا۔

یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امیگریشن حکام کے مبینہ سخت رویّے اور عدالتی احکامات کی کھلی خلاف ورزی سے متعلق تشویش ناک اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔

آئیے اس موضوع پر ہمارے نمائندے کی خصوصی رپورٹ ملاحظہ کرتے ہیں:

امریکہ سے پناہ گزینوں کی بے دخلی کی نئی لہر نے مزید تشویش ناک صورت اختیار کر لی ہے۔

حالیہ اقدامات میں امریکی حکومت نے ایشیائی پناہ گزینوں کے ایک گروہ کی ملک بدری کا عمل مکمل کیا، جن میں بعض ایسے افراد بھی شامل تھے جو قانونی تحفظات کے حامل تھے۔

ان افراد کو سخت حفاظتی انتظامات کے تحت ایک خصوصی پرواز کے ذریعے ریاست لوئیزیانا سے افریقہ منتقل کیا گیا۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی (AFP) کے مطابق، پروازوں کے ریکارڈ اور امیگریشن وکلاء کے بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ ایرانی، افغان، جارجیائی اور ترک پناہ گزینوں کو لے جانے والا یہ امریکی طیارہ الیگزینڈریا ایئر پورٹ سے روانہ ہوا اور اس کا آخری متعین کردہ مقام وسطی افریقی جمہوریہ تھا۔

انسانی حقوق کی غیر سرکاری تنظیم ہیومن رائٹس فرسٹ سے وابستہ ادارہ ICE Flight Watch کی معلومات کے مطابق، اس پرواز نے گھانا میں بھی توقف کیا۔

اس حوالے سے امیگریشن وکیل آلما ڈیوڈ نے کہا کہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ مسافروں کو گھانا میں اتارا گیا یا انہیں مکمل طور پر وسطی افریقی جمہوریہ منتقل کیا گیا۔

دی ہِل (The Hill) کی رپورٹ کے مطابق، بے دخل کئے گئے پناہ گزینوں اور ان کے وکلاء نے گھانا میں امریکی اہلکاروں کے سخت اور نامناسب رویّے اور ایسواتینی میں غیر معینہ مدت تک حراست کے خدشات کا ذکر کیا ہے۔

اس سے قبل بھی بعض مہاجرین کو زبردستی ان کے آبائی ممالک واپس بھیجا جا چکا ہے، حالانکہ وفاقی جج حضرات واضح طور پر خبردار کر چکے تھے کہ ان افراد کو واپسی کی صورت میں سنگین جانی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

بعض انسانی حقوق کی تنظیموں اور کارکنوں کے مطابق، واشنگٹن کا یہ اقدام ’’پناہ گزینوں کے مسئلے کی غیر قانونی بیرونی منتقلی‘‘ اور انسانوں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی واضح مثال ہے۔ ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ پناہ گزینوں کو افریقہ کے بحران زدہ ممالک بھیجنا بین الاقوامی اصول عدمِ جبری واپسی کی صریح خلاف ورزی ہے۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق، امریکی حکومت غریب ممالک کو مالی مراعات دے کر انہیں اپنے بیرونِ ملک حراستی مراکز میں تبدیل کر رہی ہے اور دوہرے معیار کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایشیائی پناہ گزینوں کی جانوں کو داخلی سیاسی مفادات کی نذر کر رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button