مباہلہ؛ حقانیتِ اسلام اور عظمتِ اہلِ بیت علیہم السلام کا روشن مظہر

چوبیس ذی الحجہ، یومِ مباہلہ، اُس عظیم اور تاریخی واقعہ کی یاد دلاتا ہے جس میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ اپنے اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کے ساتھ نجران کے عیسائیوں کے مقابل میدانِ مباہلہ میں تشریف لائے اور حق و باطل کے درمیان فیصلہ کن حجت قائم فرمائی۔
یہ وہ دن ہے جب قرآنِ مجید کی آیت نے اہلِ بیت علیہم السلام کی صداقت، عظمت اور بے مثال منزلت کو دنیا پر آشکار کر دیا۔
آئیے! اس موضوع پر تیار کی گئی ایک مختصر رپورٹ ملاحظہ کرتے ہیں:
واقعۂ مباہلہ صدرِ اسلام کے اہم ترین اور بے مثال واقعات میں شمار ہوتا ہے۔ اس واقعے میں رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی رسالت کی حقانیت ثابت کرنے کے لئے نجران کے عیسائیوں کو مباہلہ کی دعوت دی۔
یہ دعوت اُس وقت دی گئی جب رسولِ اکرم صلیالله علیه و آله اور نجران کے نمائندوں کے درمیان حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مقام و مرتبہ کے بارے میں طویل گفتگو اور بحث کے باوجود وہ اپنے عقیدے پر قائم رہے۔
چنانچہ اللہ تعالیٰ نے سورۂ آلِ عمران کی آیت 61 نازل فرمائی:
«فَمَنْ حَاجَّكَ فِيهِ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَكُمْ وَأَنْفُسَنَا وَأَنْفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَعْنَتَ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ»
"پس اگر علم آ جانے کے بعد بھی کوئی اس معاملے میں تم سے جھگڑا کرے تو کہہ دو: آؤ! ہم اپنے بیٹوں کو بلائیں اور تم اپنے بیٹوں کو، ہم اپنی عورتوں کو بلائیں اور تم اپنی عورتوں کو، اور ہم اپنے نفسوں کو بلائیں اور تم اپنے نفسوں کو، پھر ہم سب مل کر دعا کریں اور جھوٹوں پر اللہ کی لعنت قرار دیں۔”
شیعہ اور اہلِ سنت کے معروف مفسرین، جیسے فخر رازی اور طبری، اس بات پر متفق ہیں کہ آیتِ مباہلہ میں "أَبْنَاءَنَا” سے مراد امام حسن علیہ السّلام اور امام حسین علیہ السلام، "نِسَاءَنَا” سے مراد حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اور "أَنْفُسَنَا” سے مراد امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام ہیں۔
اہلِ سنت کی معتبر کتاب صحیح مسلم میں بھی مذکور ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ مباہلہ کے موقع پر صرف انہی چار عظیم ہستیوں کو اپنے ساتھ لے کر آئے تھے۔
یہ محدود مگر انتہائی معنی خیز انتخاب اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ اہلِ بیت علیہم السلام اللہ اور اس کے رسولؐ کے نزدیک بلند ترین مقام رکھتے ہیں۔
خصوصاً امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کو آیت میں رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کا "نفس” قرار دیا جانا آپؑ کی عظمت، ولایت اور قربِ رسولؐ کا واضح ثبوت ہے۔
جب نجران کے عیسائیوں نے ان مقدس اور نورانی چہروں کو دیکھا تو وہ مباہلہ سے پیچھے ہٹ گئے اور صلح پر آمادہ ہو گئے۔
انہوں نے محسوس کر لیا کہ جو نبی اپنی سچائی کے اثبات کے لئے اپنے سب سے عزیز افراد کو میدان میں لے آئے، وہ ہرگز جھوٹا نہیں ہو سکتا۔
واقعۂ مباہلہ محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ اہلِ بیت علیہم السلام کی حقانیت، فضیلت اور عظمت پر ایک زندہ قرآنی سند ہے، جو آج بھی مکتبِ اہلِ بیتؑ کے مضبوط دلائل میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔
یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ حق کا راستہ اہلِ بیت علیہم السلام کی ولایت اور رہنمائی کے سائے میں ہمیشہ روشن، واضح اور قائم رہے گا۔




