سن 67 ہجری میں ابراہیم بن مالک اشتر کی عبیداللہ بن زیاد پر خون کا بدلہ لینے والی تاریخی فتح

ابراہیم بن مالک اشتر، امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کے عظیم صحابی مالک اشتر نخعی کے فرزند تھے۔ جناب مختار ثقفی کی جانب سے کوفہ کو قاتلانِ اہلِ بیت سے پاک کرنے کے بعد، انہوں نے ایک عظیم لشکر کے ساتھ عبیداللہ بن زیاد، قاتلِ امام حسین علیہ السلام، کے خلاف جنگ کے لیے کوفہ سے روانگی اختیار کی تاکہ شہدائے کربلا کے خون کا انتقام لیا جا سکے۔
مالک اشتر نخعی امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کے جلیل القدر اصحاب میں شمار ہوتے تھے جنہوں نے اسلام کے دفاع اور اہلِ بیت علیہم السلام کی حمایت میں نمایاں کردار ادا کیا۔
ان کے فرزند ابراہیم بن مالک اشتر، مختار ثقفی کی تحریکِ انتقامِ کربلا کے اہم ترین سپہ سالاروں میں سے تھے۔
کتاب بحار الانوار کے مطابق، 22 ذی الحجہ 66 ہجری کو ابراہیم بن مالک اشتر بارہ ہزار، اور بعض روایات کے مطابق بیس ہزار مجاہدین کے ہمراہ کوفہ سے روانہ ہوئے تاکہ عبیداللہ بن زیاد، جو امام حسین علیہ السلام کے قتل اور ظلم و ستم کا مرکزی کردار تھا، کا مقابلہ کر سکیں۔
جناب مختار ثقفی نے شہر کے باہر جا کر ان کو خدا حافظ کہا۔
ابراہیم کا لشکر موصل سے تقریباً پانچ فرسخ کے فاصلے پر واقع نہرِ خازر کے کنارے پہنچ کر خیمہ زن ہوا۔
دوسری جانب عبیداللہ بن زیاد تیس ہزار سے اسی ہزار تک سواروں کے ایک بڑے لشکر کے ساتھ وہاں پہنچا اور جنگ کی تیاری کرنے لگا۔
جنگ سے ایک رات قبل ابراہیم بن مالک اشتر کو نیند نہ آئی۔ انہوں نے اپنے لشکر سے خطاب کرتے ہوئے کہا:
"تم دینِ خدا کے مددگار اور امیرالمؤمنین علیہ السلام کے شیعہ ہو۔ یہ عبیداللہ بن مرجانہ وہی شخص ہے جس نے حسین بن علی علیہ السلام کو شہید کیا، فرزندِ زہراؑ کو پانی سے محروم رکھا اور ان کے اہلِ حرم کو اسیر بنایا۔ فرعونیوں نے بھی بنی اسرائیل کے ساتھ وہ سلوک نہیں کیا جو ان لوگوں نے خاندانِ رسولؐ کے ساتھ کیا۔” اس کے بعد انہوں نے بارگاہِ الٰہی میں فتح و نصرت کی دعا کی۔
جنگ کے دن صبح ابراہیم بن مالک اشتر نے لشکر کے مختلف دستوں اور پرچموں کا جائزہ لیا اور باقاعدہ معرکہ شروع ہوا۔
کئی روز تک شدید جنگ جاری رہی، یہاں تک کہ 67 ہجری کے عاشور کے دن عبیداللہ بن زیاد ابراہیم بن مالک اشتر کے ہاتھوں مارا گیا۔ اس کا سر جناب مختار ثقفی کے پاس بھیج دیا گیا۔
یہ واقعہ شہدائے کربلا کے خون کا انتقام لینے اور جناب مختار ثقفی کی تحریکِ خونخواہی کی کامیابی کا ایک اہم تاریخی مرحلہ سمجھا جاتا ہے، جس نے تاریخِ اسلام میں ایک نمایاں اور فیصلہ کن موڑ پیدا کیا۔




