امریکہ میں مسلمانوں کی سماجی اور سیاسی شرکت میں اضافہ؛ عوامی اداروں میں مؤثر کردار اور امتیازی سلوک کے خلاف کوششیں
امریکہ میں مسلمانوں کی سماجی اور سیاسی شرکت میں اضافہ؛ عوامی اداروں میں مؤثر کردار اور امتیازی سلوک کے خلاف کوششیں
امریکہ میں مسلمان گزشتہ چند برسوں کے دوران سماجی، سیاسی اور شہری سرگرمیوں میں زیادہ فعال ہوئے ہیں اور ملکی عوامی زندگی میں ان کی موجودگی پہلے کے مقابلے میں زیادہ نمایاں ہوئی ہے۔
یہ رجحان ایک طرف مسلمانوں کے خلاف امتیازی رویوں کا مقابلہ کرنے اور دوسری طرف مقامی و قومی سطح پر فیصلہ سازی کے نظام میں اپنی مؤثر نمائندگی بڑھانے کی کوششوں کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔
ہمارے ساتھی نے اپنی رپورٹ میں اس موضوع کا جائزہ لیا ہے، ملاحظہ فرمائیے:
امریکہ کے مسلمان حالیہ برسوں میں سماجی، سیاسی اور شہری میدانوں میں اپنی شرکت بڑھانے کے لیے نئے اقدامات کر رہے ہیں۔
خصوصاً نوجوان مسلمان نسل میں اس رجحان میں تیزی دیکھی جا رہی ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ وہ فیصلہ سازی کے عمل میں فعال شرکت اور عوامی امور پر اثر انداز ہونے کی اہمیت کو زیادہ بہتر انداز میں سمجھنے لگے ہیں۔
اگرچہ امریکی مسلمان اب بھی بعض چیلنجوں، امتیازی سلوک اور اسلام مخالف رویوں کا سامنا کر رہے ہیں، تاہم اس برادری کے بہت سے کارکن منظم شہری سرگرمیوں اور عوامی اداروں میں شرکت کے ذریعے معاشرے میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
خبر رساں ادارے الرائد کے مطابق نوجوان مسلمانوں میں سیاسی شعور میں اضافہ، اس بڑھتی ہوئی شرکت کی اہم ترین وجوہات میں سے ایک ہے۔
اسی سلسلے میں نیویارک مسلم نیٹ ورک نے "مقامی قیادت” کے نام سے ایک پروگرام شروع کیا ہے۔
الرائد کی رپورٹ کے مطابق اس منصوبے کا مقصد پانچ سو مسلمان نوجوانوں کو سرکاری اداروں کے ساتھ مؤثر رابطے، اپنی برادری کے حقوق کے دفاع اور مقامی پالیسی سازی میں شرکت کے لیے تربیت دینا ہے۔
یہ پروگرام مسلمانوں کی عوامی اداروں میں موجودگی مضبوط بنانے اور سماجی فیصلوں میں ان کے کردار کو بڑھانے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔
دوسری جانب شہری حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں مسلمانوں کے خلاف بعض امتیازی رویوں کے تسلسل پر تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔
شورائے اسلامی ـ امریکی تعلقات (CAIR) کی رپورٹس میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ مذہبی اقلیتوں کے حقوق، مساوات اور تنوع کے تحفظ کے لیے قانونی اقدامات کو مزید مضبوط بنایا جائے۔
مسلم کارکن مختلف مذہبی اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے تعاون سے اسلاموفوبیا کے مقابلے اور پُرامن بقائے باہمی کے فروغ کے لیے مشترکہ پروگرام بھی چلا رہے ہیں۔
سماجی اعداد و شمار سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ امریکی مسلمانوں میں رضاکارانہ سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو مقامی ترقی میں مثبت کردار ادا کرنے اور امریکی معاشرے کے مستقبل میں زیادہ مؤثر حصہ لینے کے رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔
سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ رجحان جاری رہا تو مقامی کونسلوں، تعلیمی اداروں اور دیگر فیصلہ ساز مراکز میں مسلمانوں کی نمائندگی مزید بڑھ سکتی ہے۔
اس کے علاوہ شہری سرگرمیوں میں بڑھتی ہوئی شرکت مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے ماننے والوں کے درمیان بہتر مکالمے، غلط فہمیوں کے خاتمے اور امریکی معاشرے میں مسلمانوں کے حقیقی تشخص کو متعارف کرانے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔




