معجزۂ شقُّ القمر؛ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہٖ کے اشارے سے چاند کا شق ہونا، ولایتِ امیرالمؤمنین علیہ السلام کی جلوہ گری

13 ذی الحجہ اسلامی تاریخ کے ایک عظیم الشان اور حیرت انگیز واقعے کی یاد دلاتا ہے۔
یہ اُس بے مثال معجزے “شقُّ القمر” کی سالگرہ ہے جو ہجرت سے پانچ سال قبل، چودھویں رات میں اللہ تعالیٰ کے اذن سے حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہٖ کی مبارک انگشتِ اقدس کے اشارے پر رونما ہوا۔
جب مکہ کی سرزمین پر قریش کے سرداروں نے حیرت و استعجاب کے عالم میں کوہِ حرا کے اوپر چاند کو دو ٹکڑوں میں تقسیم ہوتے دیکھا، اور دور دراز صحراؤں کے مسافروں نے بھی اس عظیم واقعے کی گواہی دی، تو منکرین پر حجت تمام ہو گئی۔
سورۂ مبارکہ قمر کی ابتدائی دو آیات اس حقیقت کی ابدی سند بن گئیں کہ کائناتِ تکوین بھی ارادۂ نبوی کے سامنے سرِ تسلیم خم کرتی ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس پر فریقین کے علماء نے تواتر اور قطعی اجماع کے ساتھ اتفاق کیا ہے:
“اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ” “قیامت قریب آ گئی اور چاند شق ہو گیا۔”
لیکن اس آسمانی عظمت کی ایک زمینی تجلی بھی ہے، جو رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہٖ کے وصی، جانشینِ برحق اور معصوم امام، امیرالمؤمنین امام علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی نورانی ذات میں نمایاں ہوتی ہے۔
حضرت امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام، رسالت کے مرکز و محور اور سب سے پہلے ایمان لانے والے تھے۔ آپ نے مکہ کے ظلم و ستم اور سخت ترین آزمائشوں میں ہمیشہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ کا ساتھ دیا۔
عظمتِ مرتضوی کی حقیقت یہ ہے کہ آپؑ کی ولایت، اسی رسالت کا مکمل اور متمم حصہ ہے، جو ایک اشارے سے افلاک کو شق کر دیتی ہے۔
اگر شقُّ القمر کائنات پر نبوت کے تصرف اور قدرت کی نشانی ہے، تو امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی سراپا عدل و کمال ذات، تربیتِ نبوی کا زندہ اور بے مثال معجزہ ہے، جو انسانیت کی ہدایت کے لیے جلوہ گر ہوا۔
یہ عظیم دن درحقیقت معجزۂ تکوین اور عظمتِ تشریع کے اُس ابدی عہد کی یاد ہے جو نورِ احمدی و حیدری کے سایۂ رحمت میں ہمیشہ تابندہ و درخشاں رہے گا۔




