شام

شام میں اہلِ بیت علیہم السلام کے دشمن ناصبی عناصر کی تاریخی دشمنی ایک بار پھر نمایاں

شام میں شدت پسند سنی گروہوں کی جانب سے اشتعال انگیز اور نفرت آمیز سرگرمیوں کے تسلسل میں، گروہ “تحریر الشام” کے اندر موجود ایک ناصبی دھڑے نے، جسے بعض ماہرین “عصرِ حاضر کے اموی” قرار دیتے ہیں، ایک باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے دمشق کی جامع مسجد اموی کی دیواروں اور کتیبوں سے امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام، امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام کے مبارک ناموں کو حذف کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اس شدت پسند سنی تنظیم نے اپنے بیان میں خوارج اور نواصب کی زبان استعمال کرتے ہوئے عالم اسلام کی عظیم شخصیات اور رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جگر گوشوں کے بارے میں توہین آمیز الفاظ استعمال کئے ہیں اور مطالبہ کیا ہے کہ ان مقدس ناموں کی جگہ بنو امیہ کے سرداروں کے نام درج کئے جائیں۔

سیاسی مبصرین اور علاقائی امور کے ماہرین کے مطابق یہ اقدام محض ایک مذہبی مؤقف نہیں بلکہ “تاریخی شناخت مٹانے” اور شام میں اموی جاہلیت کو دوبارہ زندہ کرنے کی ایک منظم مہم ہے۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس مذموم مطالبہ کو، جسے عالم اسلام کے مذہبی اور ثقافتی حلقوں کی جانب سے فوری طور پر شدید مذمت کا سامنا کرنا پڑا، “جدید امویوں” کی جانب سے نفرت پھیلانے، مذہبی خلیج کو مزید گہرا کرنے اور شام کی قدیم تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

دمشق کی جامع مسجد اموی صدیوں سے ان درخشاں ناموں کو اہلِ بیت عصمت و طہارت علیہم السلام سے تمام مسلمانوں کی مشترکہ محبت اور پرامن بقائے باہمی کی علامت کے طور پر اپنے دامن میں محفوظ کئے ہوئے ہے، اور اب اسلامی معاشرے کی بیداری اور اس خطرناک فتنہ کے خلاف مزاحمت ہی اس روحانی و تاریخی ورثے کے تحفظ کی مضبوط دیوار بن سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button