افغان خواتین پر جاری پابندیوں اور اس کے انسانی بحران پر اثرات کے حوالے سے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خواتین کا انتباہ

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خواتین نے ایک بار پھر افغان خواتین اور بچیوں کے حقوق اور آزادیوں کے تحفظ کا مطالبہ کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ انہیں تشدد، امتیازی سلوک اور پابندیوں سے پاک ماحول میں زندگی گزارنے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔
اس بین الاقوامی ادارہ نے خواتین کے ذاتی تحفظ، آزادانہ نقل و حرکت اور سماجی و عوامی زندگی میں شرکت کے حق پر بھی زور دیا ہے۔
“خامہ پریس” کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خواتین نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ افغانستان میں قوانین اور پالیسیوں کو اس انداز میں مرتب اور نافذ کیا جانا چاہیے کہ خواتین اور لڑکیوں کے حقوق محفوظ رہیں اور انہیں قانونی خدمات اور انصاف تک مساوی رسائی حاصل ہو۔
اس ادارہ نے طالبان سے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ وہ انسانی حقوق اور کمزور طبقات کے تحفظ سے متعلق اپنی ذمہ داریوں پر عمل کریں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد خواتین کی تعلیم، روزگار اور سماجی سرگرمیوں پر وسیع پیمانے پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
بین الاقوامی ادارہ متعدد بار خبردار کر چکے ہیں کہ ان پابندیوں کا تسلسل افغانستان کے انسانی اور معاشی بحران کو مزید سنگین بنا دے گا۔
“خامہ پریس” کے مطابق غربت، بے روزگاری، غذائی عدم تحفظ اور طبی سہولیات کی کمی اب بھی افغانستان کے لاکھوں شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کو متاثر کر رہی ہے۔




