ہندوستان

حسین آباد ٹرسٹ کی زمین پر غیر قانونی پارکنگ اور تعمیرات کے خلاف علما کا احتجاج، تحریک چلانے کا انتباہ

لکھنؤ، 26 مئی: حسین آباد ٹرسٹ کی اراضی پر مبینہ غیر قانونی قبضوں، ناجائز تعمیرات، غیر مجوزہ پارکنگ اور “لذیذ گلی” کے خلاف آج چھوٹے امام باڑے میں علمائے کرام کی ایک اہم مشاورتی نشست منعقد ہوئی۔ اس سے قبل ضلعی انتظامیہ کے افسران نے مولانا کلبِ جواد نقوی امام جمعہ لکھنو اور دیگر علماء سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات بھی کی۔

اجلاس میں علماء نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ حسین آباد ٹرسٹ کی زمین پر کسی بھی قسم کا تعمیراتی کام شروع نہیں ہونے دیا جائے گا۔ ضلعی انتظامیہ نے یقین دہانی کرائی کہ ٹرسٹ کی زمین پر نہ کوئی نئی تعمیر ہوگی اور نہ ہی “لذیذ گلی” منصوبے پر مزید کام کیا جائے گا، جسے فی الحال روک دیا گیا ہے۔ علماء نے واضح کیا کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کئے گئے تو بھرپور عوامی تحریک شروع کی جائے گی۔

مولانا کلبِ جواد نقوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ اگر ٹرسٹ کی زمین پر کسی بھی قسم کی تعمیرات کا آغاز کیا گیا تو ایک بڑا عوامی احتجاج برپا کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ نہ پارکنگ منظور ہے اور نہ ہی “لذیذ گلی” جیسا منصوبہ۔ ان کا کہنا تھا کہ جب حسین آباد ٹرسٹ کی کوئی باقاعدہ کمیٹی موجود ہی نہیں تو پھر ضلع مجسٹریٹ کس کمیٹی کے چیئرمین ہیں؟ لہٰذا سب سے پہلے ٹرسٹ کی کمیٹی فوری طور پر تشکیل دی جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ کی حکمت عملی علماء اور وکلاء سے مشاورت کے بعد طے کی جائے گی، کیونکہ ٹرسٹ میں اس وقت کئی دیگر مسائل بھی موجود ہیں جن کے حل کی ضرورت ہے۔ مولانا نے انتظامیہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ٹرسٹ کی زمین پر کسی بھی طرح کا قبضہ ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ساتھ ہی امام باڑوں کے تقدس اور دیگر اہم امور پر بھی انتظامیہ سے گفتگو ہوئی ہے، جن پر آئندہ لائحۂ عمل تیار کیا جائے گا۔

مرکزی شیعہ چاند کمیٹی کے صدر مولانا سیف عباس نقوی نے کہا کہ انتظامیہ سے مذاکرات کے بعد ان کے مطالبے پر پارکنگ اور “لذیذ گلی” کا کام روک دیا گیا ہے، تاہم اب ان کا بنیادی مطالبہ حسین آباد ٹرسٹ کی کمیٹی کی تشکیل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مطالبات پورے نہ ہوئے تو علما اور عوام مل کر تحریک چلانے پر مجبور ہوں گے۔

اس مشاورتی اجلاس میں مولانا کلبِ جواد نقوی، مولانا سیف عباس نقوی، مولانا فریدالحسن، مولانا رضا حیدر، مولانا مصطفی علی خان، مولانا تنویر عباس، مولانا رضا حسین، مولانا علمدار حسین، مولانا حسنین باقری، ڈاکٹر کلبِ سبطین نوری، مولانا غلام رضا، مولانا افضل عباس، مولانا غضنفر نواب، مولانا شفیق عابدی، مولانا قمرالحسن، مولانا افضل عابدی، مولانا ناصر عباس، مولانا شباہت حسین، مولانا ڈاکٹر علی سلمان، مولانا کلبِ احمد نقوی، مولانا آصف علی غدیری، مولانا نفیس اختر، مولانا جاوید عباس، مولانا تفسیر حسین، مولانا عمران احمد، مولانا نظر عباس زیدی اور مولانا سہیل عباس سمیت انجمن ہائے ماتمی کے ذمہ داران اور اراکین نے شرکت کی۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button