
ایران میں ۸۸ روزہ عالمی انٹرنیٹ بندی کا خاتمہ؛ اقتصادی نقصانات، معاشی بدحالی اور ڈیجیٹل عدم مساوات کی داستان تقریباً ۸۸ دن کی طویل پابندی کے بعد ایران میں عالمی انٹرنیٹ تک رسائی بحال ہو گئی۔ یہ وہ عرصہ تھا جس میں کروڑوں شہریوں کی روزمرہ زندگی، باہمی روابط اور اقتصادی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئیں۔
یہ پابندیاں ایرانی سال ۱۴۰۴ کے ماہِ اسفند سے نافذ تھیں، جن کے سبب بے شمار انٹرنیٹ کاروبار، آن لائن فروشگاہیں اور ڈیجیٹل معیشت سے وابستہ افراد سنگین مشکلات سے دوچار ہوئے اور صارفین میں بے اطمینانی کی ایک وسیع لہر دوڑ گئی۔«اقتصادآنلاین» کی رپورٹ کے مطابق اس ڈیجیٹل بندش کے دوران انٹرنیٹ پر انحصار کرنے والے تمام کاروباروں کو آمدنی میں شدید کمی کا سامنا کرنا پڑا، بلکہ بعض ادارے تو بالکل بند ہو گئے۔
ادھر «ایسوسی ایٹڈ پریس» نے بھی اس صورتحال کو ایک بے مثال بحران قرار دیتے ہوئے لکھا کہ کروڑوں افراد بازار، صارفین اور آن لائن خدمات تک رسائی سے یکسر محروم ہو گئے۔شائع شدہ رپورٹوں کے مطابق بہت سے صارفین کو عالمی انٹرنیٹ تک پہنچنے کے لیے پابندی توڑنے کے ذرائع یعنی وی پی این وغیرہ کا سہارا لینا پڑا، جس کی وجہ سے گھریلو اخراجات میں اضافہ ہوا اور وی پی این فروخت کا ایک وسیع بازار وجود میں آ گیا۔
اسی دوران بعض ماہرین نے «طبقاتی انٹرنیٹ» کے فروغ اور صارفین کے درمیان رسائی کی سطح پر گہرے فرق کی نشاندہی کی۔«اقتصادآنلاین» نے ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کے حوالے سے یہ بھی بتایا کہ اس بحران سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ اربوں ڈالر لگایا گیا ہے اور اس کے اثرات ایران کی ڈیجیٹل معیشت پر ابھی تک باقی ہیں۔




