
افغانستان کے اعلیٰ تعلیمی مراکز میں طالبان کی سخت گیر پالیسیوں کے تسلسل کے ساتھ شیعہ طلبہ پر مذہبی دباؤ میں اضافہ اور بعض یونیورسٹیز میں ترکِ تعلیم کے بڑھتے رجحان کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔
طلبہ کا کہنا ہے کہ یونیورسٹیز کا علمی ماحول بتدریج عقیدتی اور سیاسی پابندیوں میں تبدیل ہوتا جا رہا ہے۔
خبر رساں ایجنسی باختر کے مطابق طالبان نے سرکاری اور نجی یونیورسٹیز کے طلبہ کو ایسے تعہد ناموں پر دستخط کرنے پر مجبور کیا ہے جن میں فقہِ حنفی کی پیروی اور “طالبان کی حکومت” کو ایک مشروع نظام کے طور پر تسلیم کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
کابل کی “میہن یونیورسٹی” اور ہرات کے بعض تعلیمی مراکز سے جاری ہونے والی دستاویزات کے مطابق طلبہ اس بات کے پابند بنائے جا رہے ہیں کہ وہ سیاسی سرگرمیوں، موسیقی سننے اور بعض سماجی رویّوں سے اجتناب کریں گے۔




