بلوچ آزادی پسند تنظیم ’’بلوچ لبریشن آرمی‘‘ نے کوئٹہ میں فوجی ٹرین پر حملے کی ذمہ داری قبول کرلی

بلوچ لبریشن آرمی نے کوئٹہ شہر میں پاکستانی فوجیوں کو لے جانے والی ایک ٹرین پر حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔
اس علیحدگی پسند مسلح تنظیم کا کہنا ہے کہ مذکورہ کارروائی گزشتہ روز ریلوے اسٹیشن جانے والے ریلوے ٹریک پر ایک فوجی علاقے کے قریب انجام دی گئی۔
اس واقعہ کے بعد ایک بار پھر بلوچستان کی سکیورٹی صورتِ حال توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔
تنظیم نے اتوار 24 مئی کو جاری اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ حملے کا ہدف پاکستانی فوج کے اہلکار تھے۔
ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق اس واقعہ میں پاکستانی فوج کے 82 اہلکار ہلاک ہوئے ہیں، جبکہ زخمیوں کی تعداد کے بارے میں تفصیلات تاحال سامنے آرہی ہیں۔
پاکستانی سکیورٹی حکام نے حملے اور جانی نقصان کی تصدیق کی ہے۔
روزنامہ ’’ڈان‘‘ کی رپورٹ میں بھی کہا گیا ہے کہ یہ حملہ فوجی ٹرین کے سفر کے دوران پیش آیا اور بلوچ لبریشن آرمی نے اس کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
پاکستانی میڈیا نے اس واقعہ کو بلوچستان میں حالیہ مہلک حملوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے علاقے میں بڑھتی ہوئی بدامنی پر تشویش ظاہر کی ہے۔




