7 ذیالحجہ؛ شہادتِ باقرالعلوم علیہ السلام، علم و مقاومت کے آفتاب کا غروب

تاریخِ اسلام 7 ذیالحجہ سن 114 ہجری کو اُس عظیم پیشوا کی مظلومانہ شہادت پر سوگوار ہوئی، جن کی پوری زندگی حماسه، علم، غربت اور حق کی پاسداری سے عبارت تھی۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام بچپن ہی میں کربلا کے خونیں معرکے کے چشم دید گواہ بنے اور کوفہ و شام کی اسیری کے مصائب کو اپنے والدِ گرامی حضرت امام سجاد علیہ السلام اور اپنی عظیم پھوپھی حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے ہمراہ اپنی آنکھوں سے دیکھا۔
یہ وہ عظیم ہستی ہیں جن کے نام اور لقب کی بشارت خود رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ نے اپنی حیاتِ مبارکہ میں حضرت جابر بن عبداللہ انصاری کو دی تھی۔ امام محمد باقر علیہ السلام نے اپنے دورِ امامت میں امتِ مسلمہ کو درپیش شدید فکری انحرافات، سیاسی بحرانوں اور اموی ظلم و جبر کا نہایت حکمت، بصیرت اور صبر کے ساتھ مقابلہ کیا۔
آپؑ نے ایک ایسی عظیم علمی و معرفتی درسگاہ کی بنیاد رکھی جس نے نہ صرف ممتاز شاگردوں کی تربیت کی بلکہ امام جعفر صادق علیہ السلام کی عظیم فکری و علمی تحریک کے لیے مضبوط بنیادیں فراہم کیں۔
امام باقر علیہ السلام کا علمی مکتب صرف فقہی تعلیمات تک محدود نہ تھا بلکہ وہ سماجی بیداری، ظلم کے خلاف شعور اور اموی حکومت کے مظالم کو بے نقاب کرنے کا ایک مضبوط محاذ بھی تھا۔ آپؑ نے مختلف علوم و فنون میں ایسے نامور شاگرد تیار کیے جن کے علمی آثار آج بھی دنیا بھر میں علم و دانش کے افق پر روشن ہیں۔
لیکن دشمنانِ آلِ محمد علیہم السلام اس فکری بیداری اور نورِ ہدایت کو برداشت نہ کر سکے، چنانچہ انہوں نے امام باقر علیہ السلام کو زہر دے کر شہید کر دیا۔ اگرچہ ظاہری طور پر وہ آفتابِ علم غروب ہو گیا، مگر باقرالعلوم علیہ السلام کی فکر، تعلیمات اور پیغام آج بھی آزادگانِ عالم کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔




