
خلیج فارس میں طاقت کے توازن میں تبدیلی اور نئے اتحادوں کی تشکیل
تازہ تجزیاتی رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اختلافات اب محض سیاسی رقابت تک محدود نہیں رہے بلکہ یہ خارجہ پالیسی اور علاقائی سلامتی کے میدان میں ایک تزویراتی دوری کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔
یہ صورتِ حال خلیج فارس میں طاقت کے توازن اور خلیجی تعاون کونسل کے ڈھانچے میں بڑی تبدیلیوں کا سبب بن سکتی ہے۔
ہمارے ساتھی رپورٹر نے اپنی رپورٹ میں اس موضوع کا جائزہ لیا ہے، ملاحظہ فرمائیں:
علاقہ میں جاری جنگی اور سکیورٹی حالات کے دوران خلیج کی دو بڑی طاقتوں کے درمیان اختلافات پہلے سے زیادہ نمایاں ہو گئے ہیں۔
سعودی عرب اپنی روایتی حیثیت کو ایک غالب علاقائی طاقت کے طور پر برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات بعض بین الاقوامی طاقتوں کے ساتھ عسکری، انٹیلی جنس اور اقتصادی تعلقات کو وسعت دے کر زیادہ خودمختار خارجہ پالیسی اختیار کر رہا ہے۔
تجزیہ نگاروں کے مطابق یہی مختلف طرزِ عمل دونوں ممالک کے درمیان پوشیدہ رقابت میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔
رسالہ "نیوز ویک” میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ یہ واگرائی نہ صرف “خلیجی تعاون کونسل” کے اتحاد کو کمزور کر رہی ہے بلکہ اسرائیل، بھارت اور امریکہ پر مشتمل ایک نئے جغرافیائی و سیاسی محور کے قیام کو بھی تقویت دے رہی ہے۔
اسی تجزیہ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ ریاض اور ابوظبی اب بھی براہِ راست تصادم سے گریز کر رہے ہیں اور بعض معاملات، جیسے ایران کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے میں، ایک دوسرے کے ساتھ تعاون بھی کرتے ہیں، لیکن تل ابیب اور علاقائی بحرانوں کے حوالے سے بڑھتے ہوئے اختلافات نے اس تزویراتی خلیج کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
رپورٹ میں خلیج فارس سے باہر کے اثرات کی جانب بھی اشارہ کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ رجحان شمالی افریقہ اور جنوبی ایشیا سمیت دیگر علاقوں کی سلامتی کی صورتِ حال کو بھی متاثر کر رہا ہے۔
تجزیہ نگاروں کے مطابق لیبیا، سوڈان اور یمن جیسے بحرانوں میں امارات کے مختلف کردار، اور ان کے مقابلے میں بعض معاملات میں سعودی عرب کی الگ پالیسی، دونوں فریقوں کے درمیان بڑھتی ہوئی رقابت کی علامت ہیں۔
اسی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق حالیہ جنگیں اور خطے میں ممکنہ طور پر بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ان اختلافات کو مزید شدت دی ہے اور انہیں خلیج فارس کی حدود سے بھی آگے پہنچا دیا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ رجحان طاقت کے روایتی توازن کو تبدیل کر سکتا ہے اور خطے کے ممالک کے درمیان تعلقات کی نئی صف بندی کا سبب بن سکتا ہے۔
بعض تجزیہ نگار اس صورتحال کو ایک “مستحکم طاقت” اور “ابھرتی ہوئی طاقت” کے درمیان رقابت قرار دے رہے ہیں، جس کے اثرات پورے خطے کی سلامتی پر مرتب ہو سکتے ہیں۔



