ترکیہ کے بین الاقوامی اسلامی ثقافت و تہذیب سیمینار میں اسلاموفوبیا سے نمٹنے کے طریقوں پر غور
ترکیہ کے بین الاقوامی اسلامی ثقافت و تہذیب سیمینار میں اسلاموفوبیا سے نمٹنے کے طریقوں پر غور
ترکیہ کے شمال مغربی شہر قوجاایلی میں پانچویں بین الاقوامی اسلامی ثقافت و تہذیب سیمینار کا انعقاد کیا گیا، جس میں اسلاموفوبیا کے مقابلے کے طریقوں اور مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کے موضوعات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
اس نشست میں غیر اسلامی معاشروں میں مسلم کمیونٹیز کی صورتحال، ان کی دینی و ثقافتی شناخت کو برقرار رکھنے کے چیلنجز، اور موجودہ عالمی حالات میں مسلمانوں کو درپیش مسائل پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
’’مسلمانان سراسر جهان‘‘ نیوز کے مطابق، اس سیمینار میں 15 ممالک سے تعلق رکھنے والے 30 سے زائد محققین نے شرکت کی، جبکہ اس کا انعقاد ترکیہ کے علمی اور انسانی فلاحی اداروں کے تعاون سے عمل میں آیا۔
شرکاء نے ثقافتی کشیدگیوں کو کم کرنے اور بعض ممالک میں بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا کے رجحان کا مقابلہ کرنے کے لیے علمی اور دینی مکالمہ کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
خبر رساں ایجنسی ’’اناطولی‘‘ کے مطابق، اجلاس میں اس بات پر بھی گفتگو ہوئی کہ مسلمان کس طرح اپنی دینی شناخت برقرار رکھتے ہوئے کثیرالثقافتی معاشروں میں مثبت انداز سے ضم ہو سکتے ہیں، نیز مسلم اقلیتوں کے حقوق کے دفاع میں علمی مراکز کے کردار کا بھی جائزہ لیا گیا۔
اس دوران بعض دینی اداروں کے فقہی اور سماجی تجربات بھی پیش کیے گئے، جن میں جدید طرزِ زندگی کے تقاضوں کے مطابق احکام کے اطلاق کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی۔
سیمینار کے اختتام پر علمی اور دینی تعاون کو فروغ دینے، مہاجرین قبول کرنے والے ممالک میں مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ، اور اسلامی مراکز کے درمیان روابط کو مزید مضبوط بنانے سے متعلق متعدد سفارشات پیش کی گئیں۔




