طالبان کی حکومت میں افغانستان کے شیعوں کے مذہبی حقوق محدود ہونے کے خدشات میں اضافہ

افغانستان میں شیعہ برادری کی موجودہ صورتِ حال پر سامنے آنے والی رپورٹوں اور تجزیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ طالبان کے دورِ حکومت میں شیعوں کے مذہبی، سماجی اور قانونی حقوق کے محدود ہونے کے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔
اس سلسلے میں اس رپورٹ کی جانب توجه کریں:
افغانستان میں طالبان کی حکومت جاری رہنے کے ساتھ ہی شیعہ برادری کی مذہبی اور قانونی صورتِ حال کے بارے میں تشویش بھی برقرار ہے۔
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ طالبان نے اقتدار میں واپسی کے بعد اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور اپنے رویّے میں تبدیلی کے جو وعدے کیے تھے، عملی طور پر ان پر کئی سوالات اٹھ رہے ہیں۔
روزنامہ ’’ہشت صبح‘‘ کے مطابق حالیہ مہینوں میں سب سے زیادہ بحث شیعوں کے ’’احوالِ شخصیہ‘‘ کو نظر انداز کیے جانے اور ان کے بعض مذہبی و سماجی حقوق محدود ہونے کے خدشات پر ہوئی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان کے بعض شیعہ اور ہزارہ افراد کو امید تھی کہ اس گروہ کے رویّے میں نرمی آئے گی، لیکن بعد کے حالات نے ان کی تشویش میں اضافہ کر دیا۔
افغانستان میں شیعوں کا ’’قانونِ احوالِ شخصیہ‘‘ گزشتہ برسوں سے اس برادری کے مذہبی حقوق سے متعلق ایک اہم مسئلہ رہا ہے۔
’’احوالِ شخصیہ‘‘ سے مراد انسان کی ذاتی اور خاندانی زندگی سے متعلق قانونی حیثیت ہے، جس میں نام، تاریخِ پیدائش، شادی، طلاق، شہریت اور بچوں کی سرپرستی جیسے امور شامل ہوتے ہیں۔
روزنامہ ’’ہشت صبح‘‘ کے مطابق یہ قانون پہلے بھی سیاسی اور سماجی اختلافات کا موضوع رہا ہے، جبکہ اب طالبان کے دورِ حکومت میں اس کے مستقبل کے بارے میں نئی تشویش پیدا ہو گئی ہے۔
رپورٹوں سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ شیعہ سماجی اور ثقافتی کارکن اس بات پر فکر مند ہیں کہ نئی حکومتی ساخت میں اس برادری کی مذہبی، سماجی اور سیاسی شمولیت کم کی جا سکتی ہے۔
بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اگر طالبان کی سخت پالیسیوں کا سلسلہ جاری رہا تو افغانستان میں مذہبی اور نسلی اختلافات مزید گہرے ہو سکتے ہیں۔
قانونی مسائل کے ساتھ ساتھ شیعوں اور ہزارہ برادری کی سلامتی بھی افغانستان میں ایک اہم تشویش بنی ہوئی ہے۔
علاقائی ذرائع ابلاغ کے مطابق گزشتہ برسوں میں شیعہ مذہبی اور تعلیمی مراکز پر شدت پسند گروہوں کے حملوں نے اس برادری میں خوف اور بے چینی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں مذہبی اقلیتوں کے ساتھ طالبان کے مستقبل کے تعلقات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ وہ مختلف قومیتوں اور مذاہب کے مذہبی و سماجی حقوق کے ساتھ کیا رویّہ اختیار کرتے ہیں، اور یہی مسئلہ موجودہ کابل حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج سمجھا جا رہا ہے۔




