جاپان میں اسلام مخالف کشیدگی میں اضافہ

جنوبی ٹوکیو میں نئی مسجد کی تعمیر پر قوم پرست حلقوں کی مخالفت
جاپان کے شہر فوجیساوا میں ایک نئی مسجد کی تعمیر کے خلاف قوم پرست حلقوں کی بڑھتی ہوئی مخالفت نے ایک بار پھر اس ملک میں اسلاموفوبیا اور مسلمانوں پر بڑھتے دباؤ کے حوالے سے تشویش میں اضافہ کر دیا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب جاپان میں تارکینِ وطن کی تعداد بڑھ رہی ہے اور غیر ملکی افرادی طاقت کی شدید کمی کا سامنا ہے۔
ہمارے ساتھی رپورٹر نے اپنی رپورٹ میں اس موضوع کا جائزہ لیا ہے، آئیے مل کر دیکھتے ہیں:
جاپان کے جنوبی علاقہ ٹوکیو کے قریب واقع صوبہ کاناگاوا کے شہر فوجیساوا میں ایک نئی مسجد کی تعمیر کا منصوبہ حالیہ دنوں میں جاپان کے سب سے زیادہ متنازع سماجی موضوعات میں شامل ہو گیا ہے۔
یہ منصوبہ علاقے میں بڑھتی ہوئی مسلم آبادی کی مذہبی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے تیار کیا گیا تھا، مگر اب یہ مہاجرین مخالف دائیں بازو کے گروہوں کی شدید تنقید اور حملوں کا مرکز بن چکا ہے۔
گزشتہ چند برسوں میں جاپان آبادی میں کمی اور افرادی قوت کے بحران سے دوچار ہے، جس کے باعث حکومت نے غیر ملکی کارکنوں کو ملک میں لانے کی پالیسی اختیار کی ہے۔
اسی دوران جاپان میں مسلمانوں کی تعداد بھی بڑھتی رہی ہے اور اب یہ تقریباً تین لاکھ ساٹھ ہزار تک پہنچ چکی ہے، جس کے نتیجے میں جاپانی معاشرے میں نئی سماجی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔
روزنامہ “جاپان ٹائمز” نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا کہ اس مسجد کی تعمیر کا منصوبہ 2021 میں شروع ہوا تھا اور توقع ہے کہ یہ 2027 تک مکمل ہو جائے گا۔
تاہم قوم پرست انتہاپسند حلقوں اور مہاجرت مخالف سیاسی جماعتوں کے اثر و رسوخ میں اضافے کے ساتھ اس منصوبے کے خلاف مخالفت بھی شدت اختیار کر گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق بعض دائیں بازو کے کارکنان نے سوشل میڈیا پر اس اسلامی مرکز کے بارے میں غیر مصدقہ دعوے پھیلا کر عوامی خدشات کو ہوا دینے کی کوشش کی ہے۔
اس منظم مہم کے باعث فوجیساوا کے نگر نگم کو عوامی احتجاج اور شکایات کی بڑی تعداد کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
نیوز نیٹ ورک “نکی ایشیا” نے بھی جاپان میں غیر ملکیوں کے خلاف بڑھتے ہوئے بیانیے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ سوشل میڈیا مسلمانوں کے خلاف حملوں کا ایک اہم ذریعہ بن چکا ہے۔ ان حملوں میں اسلامی حجاب، مساجد کی تعمیر اور یہاں تک کہ مسلمانوں کے قبرستانوں کے قیام کی مخالفت بھی شامل ہے۔
دوسری جانب مسجد منصوبہ کے ذمہ داران اور مسلم کمیونٹی کے افراد نے واضح کیا ہے کہ ان کا مقصد صرف جاپانی قوانین کے دائرے میں ایک مذہبی اور ثقافتی مرکز قائم کرنا ہے۔
منصوبہ کے منتظمین نے پرامن بقائے باہمی، مقامی ثقافت کے احترام اور ملکی قوانین کی پابندی پر بھی زور دیا ہے۔
سماجی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ غلط معلومات کے پھیلاؤ اور قوم پرستانہ جذبات کو بھڑکانے سے جاپانی معاشرے میں ثقافتی تقسیم مزید گہری ہو سکتی ہے۔
ان کے مطابق مختلف ثقافتوں کے درمیان مکالمے کو فروغ دینا اور مشترکہ انسانی اقدار پر توجہ مرکوز کرنا ہی اس بڑھتی ہوئی اسلام دشمنی اور سماجی کشیدگی کا مؤثر حل ہے۔




